Metro53 - اٹک (ویب ڈیسک) اٹک سٹی پولیس نے ایک حاضر سروس ایس پی پولیس افسر سے مبینہ زیادتی کے الزام میں دو کانسٹیبلز کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ متاثرہ پولیس افسر کو طبی معائنے اور قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق اٹک سٹی تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر248/2026 میں کانسٹیبل محمد عامر ولد محمد یوسف اور کانسٹیبل علی رضا ولد غلام رسول کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دونوں اہلکاروں نے مبینہ طور پر پولیس افسر کو قابو کرکے اس کی مرضی اور رضامندی کے خلاف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
Public Lens میڈیا پلیٹ فارمز سمیت دیگر آن لائن نیٹ ورک کی تفصیلات کے مطابق ،ایف آئی آر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس افسران موقع پر پہنچے، جہاں سے دونوں نامزد کانسٹیبلز کو حراست میں لے لیا گیا۔ متاثرہ افسر کو فوری طور پر طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ ضروری میڈیکل اور قانونی کارروائی مکمل کی جاسکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں جنسی زیادتی سے متعلق تعزیراتِ پاکستان کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ دستیاب معلومات میں دفعات کے حوالے سے 375، 375-A اور 376 کا ذکر سامنے آیا ہے، تاہم مقدمے میں درج حتمی دفعات کی تصدیق اصل ایف آئی آر سے کی جائے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات میڈیکل رپورٹ، متاثرہ افسر کے بیان، نامزد ملزمان کے بیانات اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں آگے بڑھائی جائیں گی۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مقدمے کے قانونی پہلوؤں اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایف آئی آر میں درج الزامات ابھی الزام کی نوعیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی ملزم کو عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے تک قانوناً بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ مقدمے کی حتمی قانونی حیثیت تفتیش اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر طے ہوگی۔
واقعے نے پولیس کے اندر اہلکاروں کے باہمی تحفظ، اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میں احتساب کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگر کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار پر سنگین جرم کا الزام عائد ہو تو شفاف اور غیر جانب دار تفتیش نہ صرف متاثرہ فریق کو انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے بلکہ ادارے پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
پولیس حکام کی جانب سے تاحال واقعے کے مکمل پس منظر، میڈیکل رپورٹ اور تفتیش کے حتمی نتائج کے بارے میں تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔ مزید پیش رفت تفتیش مکمل ہونے اور شواہد سامنے آنے کے بعد متوقع ہے۔