Metro53 - اسلام آباد(ویب ڈیسک) OIC-COMSTECH کے ڈائریکٹر کوارڈینیٹر اقبال چوہدری ڈٹ گئے ہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے انکارکردیا، دوسری طرف صدر زرداری کا لنگوٹیا بہت جلدی میں ہے جس کی بیگم کی کراچی میں ایک یونیورسٹی میں بڑے عہدے کی معیاد جلد ختم ہونے والی ہے اور اب انہیں اس عہدے کو خالی کرا کر لگانا ہے۔
اس سے پہلے اقبال چوہدری کو ایک بڑے آدمی کی پرسرار فون کال پر دوستانہ لیکن مافیا انداز میں مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ یہ سیٹ اپنے عہدے کی مدت سے دو سال پہلے چھوڑ دیں کیونکہ بڑے صاحب کے دوست کی بیگم صاحبہ کو یہاں ایڈجسٹ کرنا ہے۔ اقبال چوہدری نے فون پر انکار کر دیا تھا جس کے بعد ان کے خلاف صدر زرداری نے انکوائری آرڈر کر کے اپنے لنگوٹیے سابق وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کو ہی انکوائری افسر مقرر کر دیا۔ ویسے کھیل اب دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے کیونکہ سنا ہے سیکرٹری سائنس ٹیکنالوجی بھی ایک عدد بلوچ ہے اور ہمارے قابل احترام صدر صاحب تو ہزاروں سال سے خود کو بلوچ کہتے ہیں۔ اب ایک بلوچ صدر نے بلوچ فیڈرل سیکرٹری کے ذمے لگایا ہے کہ اس کام کو بہت جلدی میں نمٹانا ہے جو اس انکوائری کمیٹی کا ممبر بھی ہے۔ مرشد بس آپ نے چٹ منگنی پٹ بیاہ والا کام کرنا ہے ورنہ آپ بابو کس کام کے ہیں۔
حالانکہ اقبال چوہدری نے صدر زرداری کو پیٹشن بھیج رکھی ہے جس میں انکوائری کو چیلنج کیا گیا تھا۔ لیکن سولہ جولائی کے اس خط سے لگتا ہے بلوچ فیڈرل سیکرٹری ایوان صدر کے فیصلے کا انتظار کرنے کو بھی تیار نہیں۔ ویسے بھی اگر بلوچ ہی اپن بلوچ کا کام نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا۔ لگتا ہے فیڈرل سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ اب وزیراعظم شہباز شریف کی بجائے براہ راست ڈاکٹر عاصم حسین کو رپورٹ کررہا ہے جس کو اس آرڈر کی کاپی بھیجی گئی ہے؟ ویسے جو کچھ سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ اتنی جلدی جلدی کررہا ہے وہ سب کچھ وزیراعظم آفس کے نوٹس میں بھی ہے یا انہیں بھی اس معاملے سے باخبر رکھا گیا ہے کیونکہ معاملہ اب ایک چوہدری اور ایک بلوچ کے درمیان ہے۔۔ ؟ معلوم پڑتا ہے یہ معاملہ اب سرکاری نہیں رہا۔ اقبال چوہدری کے صدر کے لنگوٹیے کو فون پر اپنا استعفیٰ دینے سے انکار کے بعد بات کچھ زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ایک چوہدری کی یہ جرات وہ بلوچ صدر اور بلوچ سیکرٹری کو انکار کرے ۔