لاہور (ویب ڈیسک): پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما کیپٹن (ر) صفدر اعوان نے بار الیکشن تنازع پر اپنے خلاف ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ذاتی نوعیت کے حملوں سے انہیں پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور تمام شواہد عدالت کے روبرو رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
معروف صحافی اور اینکر فرخ شہباز وڑائچ کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے بار الیکشن کے ایک امیدوار کی ڈگری اور اہلیت پر قانونی و اصولی سوال اٹھایا تھا، لیکن جواب دینے کے بجائے معاملے کو جان بوجھ کر ان کی ذاتی زندگی، خاندان اور نکاح تک گھسیٹا گیا۔
"ذاتی حملوں کے بجائے قانونی جواب دیا جائے"
کیپٹن صفدر نے کہا:
"اگر کسی بھی شخص کی اہلیت پر سوال اٹھایا جائے تو اس کا جواب دستاویزات، ثبوتوں اور قانون کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ ذاتی معاملات اور نجی زندگی کو نشانہ بنانا کسی طور مناسب عمل نہیں ہے۔"
عدالتی کارروائی اور جوابدہی کا اعلان
لیگی رہنما نے اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ:
اگر ان کا الزام غلط ثابت ہوا تو وہ خود قانون کے سامنے ہر قسم کے احتساب کے لیے حاضر ہیں۔
اگر ان کے پیش کردہ شواہد درست نکلے تو پھر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں۔
کیپٹن (ر) صفدر نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی یا عناد کا نہیں بلکہ بار کونسل، عدالتی نظام میں شفافیت، اہلیت اور قانون کی پاسداری کا ہے۔