’تم پاگل ہو ، ہر کوئی تم سے نفرت کرتاہے‘ ٹرمپ اور نیتن یاہو میں لبنان جنگ پر تلخ کلامی، امریکی صدر برہم

’تم پاگل ہو ، ہر کوئی تم سے نفرت کرتاہے‘ ٹرمپ اور نیتن یاہو میں لبنان جنگ پر تلخ کلامی، امریکی صدر برہم
Metro53

Metro53 - واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کو ایک سخت اور تلخ ٹیلیفونک گفتگو میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایگزیوس کے مطابق امریکی حکام اور گفتگو سے آگاہ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو "پاگل" قرار دیتے ہوئے ان پر ناشکری کا الزام بھی عائد کیا۔ذرائع کے مطابق پیر کے روز ہونے والی اس گفتگو کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کیونکہ اسی دن ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو وہ امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات ترک کر سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بیروت پر حملے کے منصوبے سے بھی باز رہنے پر مجبور کیا۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ اگر اسرائیل بیروت پر بمباری کی اپنی دھمکیوں پر عمل کرتا ہے تو اس سے اسرائیل عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔

دو ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے گفتگو کے دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے میں مدد دی تھی، جس سے ان کی مراد نیتن یاہو کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات میں اپنی حمایت تھی۔

ایک امریکی عہدیدار نے ٹرمپ کے الفاظ کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے نیتن یاہو سے کہا’’تم بالکل پاگل ہو،  اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے،  میں تمہیں بچا رہا ہوں،  اب ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے اور ان وجوہات کی بنا پر ہر کوئی اسرائیل سے بھی نفرت کرتا ہے۔‘‘

گفتگو سے آگاہ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق ٹرمپ شدید غصے میں تھے اور ایک موقع پر انہوں نے نیتن یاہو پر چیختے ہوئے کہا’’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘‘امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اس بات سے آگاہ تھے کہ حزب اللہ اسرائیل پر حملے کر رہی ہے اور اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم ان کا خیال تھا کہ حالیہ دنوں میں نیتن یاہو نے ردعمل کو غیر متناسب حد تک بڑھا دیا ہے۔اسرائیل نہ صرف بیروت پر حملوں کی دھمکیاں دے رہا تھا بلکہ جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو بھی وسعت دے رہا تھا۔

ایک اور امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ لبنان میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتوں پر بھی تشویش رکھتے تھے اور اس بات پر اعتراض کر رہے تھے کہ اسرائیل ایک حزب اللہ کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارتیں گرا رہا ہے۔دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اب بیروت میں حزب اللہ کے اہداف پر حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں بھی کئی مرتبہ کشیدہ گفتگو ہو چکی ہے، تاہم دونوں رہنما ایران اور دیگر معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی واپسی کے بعد یہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کی سخت ترین گفتگوؤں میں سے ایک تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ لبنان میں اسرائیلی کشیدگی ان مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتی تھی جو ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ کر رہی ہے۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں