دستاویزات میں بیڈ آکوپینسی اور مریضوں کی تعداد میں کمی کا انکشاف، چیئرپرسن نے کارکردگی بہتر ہونے کا دعویٰ کردیا
Metro53 - لاہور: لاہور کے شیخ زید اسپتال کو انتظامی اور مالی مسائل کے باعث متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ مستقل چیئرمین کی تقرری کا عمل بھی اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران اسپتال کی کارکردگی اور انتظامی معاملات پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
دستاویزات اور ذرائع کے مطابق اسپتال میں مریضوں کی بیڈ آکوپینسی 11 جون کو 58.72 فیصد تھی، جو 27 جون تک کم ہو کر 54.2 فیصد رہ گئی۔ اسی عرصے کے دوران آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) اور ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے 17 جون کو شیخ زید اسپتال کے مستقل چیئرمین کے عہدے کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے تین امیدواروں، پروفیسر ڈاکٹر منصب علی، پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں اور ڈاکٹر مونا عزیز کا انٹرویو کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر وزیراعظم نے اسپتال کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے سابق ایڈمنسٹریٹر کو مبینہ کرپشن کے باعث عہدے سے ہٹانے اور انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا بھی ذکر کیا۔
ذرائع کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر منصب علی کا تعلق کلینیکل شعبے سے ہے، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں اور ڈاکٹر مونا عزیز بنیادی طبی علوم (بیسک میڈیکل سائنسز) سے وابستہ ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں شیخ زید اسپتال کے چیئرمین عموماً سرجری یا میڈیسن جیسے کلینیکل شعبوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز تعینات ہوتے رہے ہیں، کیونکہ انہیں اسپتالی انتظام چلانے کا زیادہ عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
دستاویزات کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹ اور دیگر بنیادی تشخیصی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو بروقت تشخیص میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعدد مریض نجی لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسپتال میں ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قلت کے باعث مریضوں کو اپنی جیب سے ادویات خریدنا پڑ رہی ہیں، جس سے علاج کے تسلسل پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق صحت سہولت پروگرام کی معطلی کے بعد مستحق مریضوں کے لیے کیش لیس علاج کی سہولت متاثر ہوئی ہے، جبکہ اسپتال کی آمدنی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ صحت سہولت پروگرام کے تقریباً 1500 کیسز کی ادائیگیاں تاحال موصول نہیں ہو سکیں، جس سے اسپتال کو مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ذرائع نے ایک خاتون تیماردار کے ساتھ مبینہ جسمانی ہراسانی کے واقعے کا بھی ذکر کیا، جس میں ایک سینئر فیکلٹی رکن پر الزام عائد کیا گیا۔ تاہم اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس حوالے سے کسی سرکاری تحقیقات کا نتیجہ سامنے آیا ہے۔
ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ وفاق کی دو اہم شخصیات چیئرمین کے عہدے پر ایک خاتون امیدوار کی تقرری کی حمایت کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس عہدے کے لیے دو مرتبہ اشتہار جاری کیا گیا اور دوسری مرتبہ بھرتی کے عمل کو ایک مخصوص امیدوار کے حق میں ترتیب دیا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی متعلقہ حکام کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے۔
رابطہ کرنے پر شیخ زید اسپتال کی موجودہ چیئرپرسن اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ہمایوں نے اسپتال کی کارکردگی سے متعلق تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پبلک ہیلتھ میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور انتظامی امور چلانے کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے عہدہ سنبھالنے سے قبل اسپتال کی بیڈ آکوپینسی 30 سے 35 فیصد کے درمیان تھی، جو ان کے چھ ماہ کے دور میں بڑھ کر 50 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض خصوصی شعبوں میں مریض داخل نہیں ہوتے، تاہم ان شعبوں کے بیڈ بھی مجموعی آکوپینسی میں شمار کیے جاتے ہیں، جس کے باعث مجموعی شرح کم دکھائی دیتی ہے۔
شیخ زید اسپتال کے مستقل چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔