Metro53 - گجرات ( ویب ڈیسک ) وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات نے نہ صرف ادارے کی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے بلکہ یہاں زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ کی عزت اور شناخت کو بھی مشکوک بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ کہنا کہ یونیورسٹی آف گجرات یا اس کے اطراف میں منشیات کا کاروبار ہوتا رہا، بغیر ثبوت کے، ایک غیر ذمہ دارانہ، شرمناک اور بدنیتی پر مبنی الزام ہے۔
سوال یہ ہے کہ وی سی صاحب، آپ جہاں سے آئے ہیں، وہاں کی جامعات میں کیا ہوتا رہا، اس کا بوجھ آپ گجرات پر کیوں ڈال رہے ہیں؟ الحمداللہ، میرے گجرات میں، میرے پنجاب کی کسی بھی یونیورسٹی میں منشیات نہیں بکتی۔ اگر ایسا ہے تو آپ ثبوت سامنے لائیں۔ خالی بیانات، اشارے، اور افواہیں نہ ادارہ چلاتی ہیں نہ سچ ثابت کرتی ہیں۔
آپ کو بتانا ہوگا کہ کب، کہاں، کس نے، کس کے ذریعے یونیورسٹی آف گجرات میں منشیات کا کاروبار کیا؟ آپ کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ ملحقہ علاقوں اور دیہات میں منشیات کے مبینہ کاروبار کا یونیورسٹی انتظامیہ سے کیا تعلق تھا؟ اگر کچھ تھا تو کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ اور اگر کچھ نہیں تھا تو یہ الزام کیوں لگایا گیا؟
یہ سب کچھ ایک کرپٹ لابی کے کہنے پر کیا گیا بیان لگتا ہے، جو اپنے جرائم اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے پورے ادارے کو بدنام کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ یاد رکھیں، یونیورسٹی کوئی ذاتی جاگیر نہیں کہ اپنی صفائیاں دینے کے لیے اس کی عزت اچھال دی جائے۔
اگر ثبوت ہیں تو سامنے رکھیں، ورنہ یہ معاملہ رکے گا نہیں۔ میڈیا ٹرائل ہوگا، سوال پوچھے جائیں گے، اور جواب دینا ہوگا۔ یونیورسٹی آف گجرات اور اس کے طلبہ خاموش نہیں رہیں گے۔ ان شاءاللہ، سچ سامنے آئے گا، چاہے کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو-