ایئر پورٹ پر روکے جانے پر اینکر پرسن فرخ وڑائچ کا مؤقف آگیا

ایئر پورٹ پر روکے جانے پر اینکر پرسن فرخ وڑائچ کا مؤقف آگیا
Metro53

Metro53 - لاہور (ویب ڈیسک) اینکر پرسن فرخ وڑائچ کا کہنا ہے کہ انہیں لاہور ایئرپورٹ پر اس لیے روکا گیا کیونکہ ان کا نام سٹاپ لسٹ میں تھا جو کہ ’’اوپر‘‘ سے حکم ہونے کے بعد ڈالا گیا تھا لیکن انہیں پتا نہیں کہ ان کا نام کیوں شامل ہوا ۔

ایک فیس بک پوسٹ میں فرخ وڑائچ نے بتایا’’آج کینیڈا سے واپسی پر مجھے لاہور ایئرپورٹ پر روک لیا گیا، ایف آئی اے کے اہلکار مجھے ساتھ لے گئے۔  پوچھنے لگے ، سر آپ کہاں سے آئے ہیں، روکنے والے اہلکار نے کہا میں آپ کے شوز دیکھتا ہوں "آپ تو غدار نہیں لگتے" پھر بتایا آپ کا نام سٹاپ لسٹ میں ہے،  آپ کب ملک سے باہر گئے تھے،  اگر آپ کا مسئلہ تھا تو واپس کیوں آئے، سر وہیں سیٹل ہوجاتے یہاں کیا رکھا ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’ بھائی میرا سب کچھ یہ ملک ہے اسی ملک نے مجھے پہچان دی ہے۔‘‘

فرخ وڑائچ کے مطابق انہیں  بٹھایا گیا  اور کہا گیا انتظار کریں، اوپر سے پوچھ رہے۔’’  میں نے سوال کیا میرا نام کس وجہ سے سٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا ہے۔  جواب ملا سر یہ تو ہمیں نہیں پتا ۔یہ ان کا کام ہے وہ ہی نام بھیجتے ہیں‘‘ ۔

اینکر پرسن کے مطابق ’’سب اہلکار اچھے تھے،  مجھے پوچھتے رہے چائے لیں گے؟ اگر آپ کا سامان ہے تو کسی کو کہہ دیں کیونکہ ابھی کچھ پتا نہیں شاید آپ جلدی فری ہوجائیں شاید کوئی آپ کو لینے آجائے۔  بتایا گیا کہ جنہیں روکا جاتا ہے ان کے نام کے آگے ریفرنس ہوتا ہے کہ یہ بندہ اب کن کے حوالے کرنا ہے مگر آپ کے کیس میں ایسا نہیں ہے۔  بالآخر کچھ دیر بعد مجھے کہا گیا آپ جاسکتے ہیں۔ مگر اب آپ اپنا نام نکلوالیں ورنہ آپ بیرون ملک نہیں جاپائیں گے،  اہلکار نے کہا سر’’ان سے مل کر اپنا مسئلہ حل کروائیں۔‘‘

فرخ وڑائچ نے لکھا ’’ جتنی دیر مجھے بٹھائے رکھا ایف آئی اے کے افسران کہنے لگے سر ٹی وی پر ہمارے مسائل بھی اجاگر کریں۔  سی ایس پیز نے ہماری مت ماری ہوئی ہے میرا نام کوٹ کیے بغیر ہمارا کچھ کریں کوئی پروموشن نہیں ہورہی ۔ ہمارے ساتھ بہت برا سلوک کیا جارہا ہے۔  اتنی دیر میں اہلکار پاسپورٹ لے گیا اور کہا کہ سر آپ کی رپورٹ بنا لیں پھر آپ جاسکتے ہیں۔  وہیں دفتر میں میری تصویر بنائی گئی،  کچھ دیر بعد پاسپورٹ میرے ہاتھ میں تھمادیا ،آپ جاسکتے ہیں جلدی جلدی شکریہ ادا کرکے باہر نکلنے لگا پیچھے سے پھر آواز آئی سر رکیں۔  میں نے سوچا لگتا ہے کہ اب ضرور رگڑا لگائیں گے۔  روکنے والا اہلکار کہنے لگا سر جی ایک سیلفی ہونی چاہیے ، یادگار رہے گی۔  اس نے دوسرے اہلکار سے کہا تم بھی آجائو تصویر میں،  جواب آیا’’میں مرنا‘‘ فضا ء میں قہقہہ بلند ہوا میں مطمئن ہوکر باہر نکل آیا لیکن یہ سب لکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں اپنے ملک کے حوالے سے اتنی بے یقینی کیوں ہے،میرا نام کیوں اس لسٹ میں ڈالا گیا،میرے پر آج تک کوئی ایف آئی آر نہیں ہے، انشاءاللہ میں کوشش کر رہا  ہوں پتا چلے آخر ایسا کیوں ہوا۔الحمدللہ میں خیریت سے ہوں آپ سب کی محبت کا شکر گزار ہوں۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں