Metro53 - گجرات (کورٹ رپورٹر) گجرات میں 12 سالہ بیٹی سے زیادتی کے مقدمے میں عدالت نے والد کو عمر قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
گجرات کی سیشن عدالت نے معاشرے کو ہلا دینے والے بدترین اور لرزہ خیز مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اپنی ہی 12 سالہ سگی بیٹی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے والے سنگ دل والد کو عمر قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد پولیس نے مجرم کو سزا بھگتنے کے لیے سخت حفاظتی حصار میں ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج شہباز اقبال تارڑ نے تمام تر بیانات، ٹھوس فرانزک شواہد اور میڈیکل رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ملزم ثاقب عامر بٹ پر جرم ثابت ہونے پر اپنا حتمی فیصلہ سنایا:
بنیادی سزا: مجرم ثاقب عامر بٹ کو تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
جرمانہ: عدالت نے مجرم پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
عدم ادائیگی پر قید: عدالتی حکم نامے کے مطابق اگر مجرم نے جرمانے کی رقم ادا نہ کی تو اسے مزید 6 ماہ قید بھگتنا ہو گی۔
فاضل جج نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ باپ کا رشتہ تحفظ، شفقت اور پناہ کی علامت ہوتا ہے، اور اپنے ہی خون کے ساتھ اس قسم کے بھیانک فعل کا ارتکاب کرنے والے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔
پولیس اور قانونی دستاویزات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ سال 2024 میں اس وقت منظرِ عام پر آیا جب مجرم کی اہلیہ نے خود آگے بڑھ کر قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا:
مدعیہ: مجرم کی اہلیہ سدرہ ارشد نے اپنے شوہر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا۔
تھانہ اور ایف آئی آر: تھانہ لاری اڈہ گجرات نے خاتون کی مدعیت میں نامزد ملزم ثاقب عامر بٹ کے خلاف 12 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ درج کیا۔
مسلسل تشدد اور استحصال: تفتیشی رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ ملزم باقاعدہ رپورٹ درج ہونے سے قبل تقریباً 6 ماہ تک مسلسل اپنی کمسن بیٹی کو درندگی اور ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بناتا رہا۔
پولیس نے مقدمہ درج ہوتے ہی ملزم کو فوری گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا:
مجرم گزشتہ 24 ماہ (2 سال) سے جوڈیشل ریمانڈ پر گجرات جیل میں قید تھا، جہاں مقدمے کا ٹرائل مکمل کیا گیا۔
پراسیکیوشن نے سماعت کے دوران مدعیہ، متاثرہ بچی کے بیانات، طبی شواہد اور فارنزک رپورٹس عدالت میں پیش کیں، جن کی بنیاد پر ملزم پر تمام الزامات بلا کسی شک و شبہے کے ثابت ہوئے۔
اس عبرتناک فیصلے کے بعد گجرات کی وکلا برادری، سول سوسائٹی اور بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے عدالت کے اقدام کو سراہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے وحشیانہ اور غیر انسانی جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف فوری، سخت اور سائنسی بنیادوں پر سزائیں ہی معاشرے کو محفوظ بنا سکتی ہیں اور دیگر درندہ صفت افراد کے لیے عبرت کا نشان بنتی ہیں۔