Metro53 - اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی ڈھانچے کا منصوبہ تیار، ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک کو بارہ (12) نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام نسلی و لسانی بنیادوں پر صوبائی سیاست کو کمزور کرنے اور وفاق کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اٹھایا جا رہا ہے۔
موجودہ صوبائی ڈھانچہ 1970ء میں قائم ہوا تھا اور چلا آ رہا ہے، جو بڑی حد تک لسانی بنیادوں پر بن چکا ہے۔ماہرین کے مطابق انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم سے ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم، تیز گورننس اور مرکز کے ساتھ ہم آہنگی ممکن ہوگی۔بھارت، نائیجیریا اور ایتھوپیا جیسے ممالک میں اس حکمت عملی نے کامیابی حاصل کی ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صوبائی سیٹ اپ ۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا ۔ ختم کر کے ہر ایک کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا، جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی مزید اختیارات دیے جائیں گے۔مجوزہ 12 صوبے، ہیڈکوارٹرز اور اہم علاقوں پر مشتمل ہوں گے۔
پنجاب (4 صوبے)
اضلاع: لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ
اضلاع: راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، خوشاب
اضلاع: ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، رحیم یار خان
اضلاع: فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا، بھکر
بلوچستان (4 صوبے)
اضلاع: گوادر، کیچ، پسنی، اورماڑہ، لسبیلہ
اضلاع: خضدار، قلات، مستونگ، آواران، سوراب
اضلاع: کوئٹہ، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن
اضلاع: نصیر آباد، جھل مگسی، کچھی، سبی، ڈیرہ بگٹی
خیبر پختونخوا (2 صوبے)
اضلاع: پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، بونیر
اضلاع: ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں
سندھ (2 صوبے)
اضلاع: کراچی کے تمام اضلاع، حیدرآباد
اضلاع: سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور، نواب شاہ، دادو، میرپور خاص
ممکنہ طریقہ کار
3 ماہ: آئینی مسودہ اور صوبائی حدود کا تعین.
6 ماہ: قومی و صوبائی اسمبلیوں سے دو تہائی اکثریت سے منظوری.
4 ماہ: عبوری گورنر، چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تعیناتی.
6۔8 ماہ: نئی حلقہ بندیاں اور انتخابات.
2۔3 سال: مستقل صوبائی دارالحکومت اور سیکرٹریٹ کی تعمیر.
ممکنہ ردعمل
سیاسی جماعتیں: وفاقی جماعتیں کریڈٹ لینے کی دوڑ میں شامل، قوم پرست جماعتوں کا ممکنہ احتجاج ہوگا،عالمی میڈیااسے پاکستان کی سب سے بڑی انتظامی ریفارم قرار دے گا۔