Metro53 - لاہور(ویب ڈیسک)استعفے کے متن کے مطابق ذاتی وجوہات،صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دیا، عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خود مختاری کو متاثر کیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا ہے کہ عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے، سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ انصاف کے متلاشی افراد کو نظرِ انداز کیا جا رہا ہے۔
استعفے میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لکھا ہے کہ ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھوں، وکالت میں واپس آ کر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کروں گا۔
یاد رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی 23 دسمبر 2015ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج تعینات ہوئے تھے۔
رواں سال اپریل میں جسٹس محسن اختر کیانی کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ تبادلہ ہوا تھا۔
واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں جوڈیشل کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دی تھی۔