Category:

کرپشن کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ کی خبریں

مریم نواز کا کرپشن کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ شروع، پنجاب کی افسر شاہی میں کھلبلی، 100 سے زائد افسران ریڈار پر

Metro53 - لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں مبینہ کرپشن، مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری منصوبوں میں خوردبرد کے خلاف فیصلہ کن راؤنڈ شروع کر دیا ہے۔ محکمہ خوراک سے لے کر ستھرا پنجاب، سستا آٹا پروگرام، لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام، ایکسائز، تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی اور مواصلات و تعمیرات سمیت متعدد محکمے تحقیقات کے دائرے میں آ گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 100 سے زا


ڈیلی پاکستان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی محکمے میں ہونے والی مبینہ ہیرا پھیری، مالی بے ضابطگی یا کرپشن میں اگر کمشنر، سیکرٹری، محکمے کا سربراہ، ڈپٹی کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، ڈائریکٹر یا کوئی دوسرا افسر براہ راست یا بالواسطہ ملوث پایا جائے تو اسے کسی صورت رعایت نہ دی جائے۔ صرف ماتحت اہلکاروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے اصل فیصلہ سازوں اور نگرانی کے ذمہ دار افسران کی ذمہ داریاں بھی فکس کی جائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت ہے کہ تحقیقات میں جو بھی افسر یا اہلکار ملوث ثابت ہو، اس کے خلاف قانون کے مطابق گرفتاری اور محکمانہ کارروائی کی جائے، اسے عہدے سے ہٹانے اور ملازمت سے فارغ کرنے سمیت دستیاب قانونی و انتظامی اقدامات عمل میں لائے جائیں۔ اس مرتبہ محض چھوٹے اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے اعلیٰ افسران تک احتساب کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اینٹی کرپشن پنجاب کو مزید بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے مبینہ کرپشن میں ملوث افسران، اہلکاروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کسی کو رعایت نہ دی جائے اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
خانیوال کی سابق ڈپٹی کمشنر اور ان کے دور میں بیوٹیفکیشن منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی تحقیقات کے دائرے میں آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق ڈپٹی کمشنر کو تفتیش میں شامل کیا گیا، جبکہ ان کے ماتحت متعدد افسران کے خلاف بھی کارروائی کی اطلاعات ہیں۔
وزیراعلیٰ نے لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی نوٹس لیا ہے۔ لاہور کی سینکڑوں سڑکوں پر سیوریج بچھانے کے بعد دوبارہ تعمیر نہ ہونے، ناقص میٹریل کے استعمال اور ترقیاتی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ واسا، ڈپٹی کمشنر لاہور اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے خفیہ سروے بھی کرایا جا رہا ہے۔
محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں منصوبوں کی منظوری، فنڈز کی شمولیت، نکاسی اور ٹھیکیداروں کو نوازنے کے الزامات کی بھی چھان بین شروع ہو گئی ہے۔ محکمہ صحت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ نرخ مقرر کرنے کی شکایات پر بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب، سستے آٹے کے پروگرام، لیپ ٹاپ اسکیم، محکمہ پولیس کے ترقیاتی منصوبوں اور صوبے بھر میں تعمیر ہونے والی سڑکوں کے معیار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ خصوصی برانچ کو بھی مبینہ کرپشن کی نشاندہی اور معلومات اکٹھی کرنے کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ کرپشن کی فائلوں سے فٹفٹالماریاں بھر چکی ہیں۔ اس پس منظر میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے شروع کی گئی کارروائیوں کو صوبے کے سرکاری محکموں میں احتسابی عمل کے ایک بڑے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اچھا جہاں متضاد اطلاعات ہیں کہ خانیوال کی سابق ڈپٹی کمشنر ملیحہ رشید کو بعض ذرائع کہہ رہے ہیں کہ گرفتار کر لیا گیا ہے لیکن بعض ذرائے کا یہ دعوی ہے کہ گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں ایک کہہ کر چھوڑا گیا کہ ان کو شامل تفتیش کیا جائے اب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ان کے تحت ایک اور  انجینئر  زین بلوچ بھی گرفتار ہیں اور چار اور بھی لوگ گرفتار ہیں اب یہ ہوا کہ وزیراعلی پنجاب نے بہت سکتن سخت کرپشن کے خلاف  کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں