Metro53 - گجرات (مرزا عادل سے)گجرات کے تھانہ انڈسٹریل اسٹیٹ فیز ٹو کے علاقے میں فروٹ فروش کے اندھے قتل کا معمہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور جدید تفتیشی طریقوں کی مدد سے حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس نے مبینہ مرکزی ملزم کو آلہ قتل اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل سمیت گرفتار کر لیا، جبکہ قتل کی منصوبہ بندی میں مبینہ معاونت کرنے والی خاتون کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولی
پولیس کے مطابق محمد سلیم نے تھانہ انڈسٹریل اسٹیٹ فیز ٹو میں درخواست دی کہ اس کا حقیقی بھائی محمد مظہر اقبال پل نہر ساروکی کے قریب فروٹ کی ریڑھی لگاتا تھا۔ یکم اگست 2026 کو ایک نامعلوم شخص اس کے بھائی کے پاس آیا اور کافی دیر تک فروٹ کی خرید و فروخت کے حوالے سے بات چیت کرتا رہا۔
پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کچھ دیر بعد وہاں سے واپس جانے لگا تو اس نے اچانک محمد مظہر اقبال پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا، جبکہ ملزم فائرنگ کے بعد موٹر سائیکل پر فرار ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ کرائم سین یونٹ اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ماہرین نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے۔ مقتول کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔
ڈی پی او گجرات فیصل شہزاد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اندھے قتل کو ٹریس کرنے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایس ایچ او تھانہ انڈسٹریل اسٹیٹ فیز ٹو سب انسپکٹر طاہر زمان اور ان کی ٹیم کو خصوصی ٹاسک سونپا۔
پولیس کے مطابق تفتیشی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کیں اور شواہد کا تجزیہ کرتے ہوئے مختصر وقت میں قتل کی واردات کے مرکزی ملزم تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔
پولیس نے مبینہ مرکزی ملزم فلک شیر کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والا آلہ قتل اور موٹر سائیکل بھی برآمد کرلی۔
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش گرفتار ملزم فلک شیر نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس کا دوست احمد سعودی عرب میں مقیم ہے اور اس سے مسلسل رابطے میں تھا۔ پولیس کے مطابق احمد نے فلک شیر کو بتایا کہ مقتول مبینہ طور پر اس کی اہلیہ کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے بیان کے مطابق احمد نے اپنی اہلیہ سے بھی فلک شیر کا رابطہ کروایا، جس کے بعد تینوں افراد نے مبینہ طور پر محمد مظہر اقبال کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔
پولیس کے مطابق فلک شیر نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس نے یکم اگست 2026 کو محمد مظہر اقبال کو فائرنگ کرکے قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم فلک شیر کی نشاندہی پر زینت بی بی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے، جس پر مبینہ طور پر قتل کی منصوبہ بندی میں معاونت کا الزام ہے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث احمد اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے متعلقہ اداروں کے ذریعے کارروائی جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے، جبکہ تفتیش کے دوران سامنے آنے والی معلومات اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قتل میں ملوث دیگر عناصر کے کردار کا بھی تعین کیا جا سکے۔