Category:

ایران کی خبریں

ایران کا تیل کا انفراسٹرکچر اگلے تین دنوں میں پھٹ سکتا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ

Metro53 - واشنگٹن ( ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا تیل کا انفراسٹرکچر اگلے تین دنوں میں پھٹ سکتا ہے، جس کی وجہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث پیدا ہونے والے تکنیکی مسائل ہیں۔

فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جب بڑی مقدار میں تیل پائپ لائنز کے ذریعے بہہ رہا ہوتا ہے اور کسی بھی وجہ سے اس بہاؤ کو روک دیا جائے، مثلاً جب اسے ٹینکروں یا جہازوں میں منتقل نہ کیا جا سکے، تو اس سے شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو اسی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ ناکہ بندی کے باعث اس کے پاس تیل برآمد کرنے کے لیے جہاز موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں پائپ لائنز اندرونی اور زمینی دباؤ کے باعث پھٹ سکتی ہیں، اور ایک بار یہ نظام تباہ ہو جائے تو اسے پہلے جیسی حالت میں بحال کرنا ممکن نہیں رہتا۔

نیو یارک پوسٹ کے مطابق ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کو 29 اپریل تک اپنے تیل کے کنویں بند کرنے پڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم کر رہا ہے۔ امریکی ناکہ بندی کے بعد ایران نے اپنے تیل کو سمندری راستوں کے بجائے زمینی ذخیرہ گاہوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا تھا، لیکن ان ٹینکوں کی گنجائش محدود ہے۔ جب یہ مکمل بھر جائیں گے تو ایران کو تیل کی پیداوار روکنا پڑے گی، جس سے کنوؤں کو طویل مدتی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی پیداوار میں اچانک اور طویل وقفہ زیر زمین ذخائر کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے اور بعد میں پیداوار کو دوبارہ اسی سطح پر لانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے ایران کی معیشت، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ جنگ کے باعث پہلے ہی یومیہ تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل مارکیٹ سے غائب ہو چکا ہے، اور ایران کی پیداوار میں مزید کمی سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران وقتی طور پر اپنی پیداوار مزید کم کر سکتا ہے یا بندرگاہوں پر تیل بردار جہازوں کو عارضی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے تاکہ فوری دباؤ کو کم کیا جا سکے، تاہم یہ حل زیادہ دیرپا نہیں ہوگا۔ اس وقت ایران یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل پیدا کر رہا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ایک مشاورتی ادارے کے اندازے کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 12 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جو اسے زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں تک ہی سہارا دے سکتی ہے، جس کے بعد اسے پیداوار بند کرنے جیسے سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں