ایران میں پانی کی شدید قلت، شہر مشہد میں ڈیموں کا ذخیرہ 3 فیصد سے بھی کم رہ گیا

ایران میں پانی کی شدید قلت، شہر مشہد میں ڈیموں کا ذخیرہ 3 فیصد سے بھی کم رہ گیا
Metro53

Metro53 - تہران (ویب ڈیسک) ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد کو پانی فراہم کرنے والے ڈیموں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر کر 3 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسنا (ISNA) کے مطابق مشہد واٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو حسین اسماعیلیان نے بتایا کہ’’مشہد کے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ اب3  فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ پانی کے استعمال کا انتظام اب محض ایک مشورہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔‘‘
اے ایف پی کے مطابق تقریباً 40 لاکھ آبادی پر مشتمل ایران کے مقدس ترین شہر مشہد کی پانی کی فراہمی 4 بڑے ڈیموں سے ہوتی ہے۔

اسماعیلیان کے مطابق شہر میں پانی کی کھپت اس وقت فی سیکنڈ 8 ہزار  لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جس میں سے صرف  ایک سے ڈیڑھ ہزار  لیٹر فی سیکنڈ ڈیموں سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

ادھر دارالحکومت تہران میں بھی حکام نے ممکنہ عارضی واٹر کٹس کے بارے میں خبردار کیا ہے، کیونکہ ملک دہائیوں کی بدترین خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے۔

تہران کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے5بڑے ڈیم بھی نازک حالت میں پہنچ چکے ہیں، جن میں سے ایک مکمل طور پر خالی ہو چکا ہے جبکہ ایک کی گنجائش8 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔

اسماعیلیان نے کہا کہ’’اگر عوام پانی کے استعمال میں 20 فیصد کمی کر لیں تو لگتا ہے کہ پانی کی راشننگ یا کٹوتی کے بغیر بھی صورتحال کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، زیادہ پانی استعمال کرنے والے صارفین کی فراہمی پہلے بند کی جا سکتی ہے۔‘‘
ایرانی واٹر ریسورسز مینجمنٹ کمپنی کے اہلکار عباس علی کیخاہی کے مطابق، ملک بھر میں 19 بڑے ڈیم  یعنی ملک کے تقریباً 10 فیصد آبی ذخائر  مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ اگر سردیوں سے قبل بارش نہ ہوئی تو یہاں تک کہ تہران کو بھی خالی کرانا پڑ سکتا ہے، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔ایران کو یہ شدید آبی بحران کئی ماہ کی خشک سالی کے بعد درپیش آیا ہے۔

گزشتہ گرمیوں میں حکومت نے تہران میں عام تعطیلات کا اعلان بھی کیا تھا تاکہ پانی اور توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے، کیونکہ اس دوران دارالحکومت میں شدید گرمی کی لہر کے باعث تقریباً روزانہ بجلی کی بندش کے واقعات پیش آ رہے تھے۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں