Metro53 - اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں جدید CT Scanner کی خریداری کا عمل ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جامع تکنیکی، مالیاتی اور انتظامی جانچ کے بعد ایک جدید چینی CT Scanner نظام کامیاب بولی دہندہ کے طور پر سامنے آیا ہے، جس سے ادارے میں تشخیصی سہولیات کے معیار میں نمایاں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس خریداری کے پورے عمل کا متعلقہ تکنیکی کمیٹیوں، تشخیصی ماہرین اور اعلیٰ حکام نے تفصیلی جائزہ لیا۔ جانچ کے دوران تکنیکی صلاحیت، مالیاتی موزونیت، مریضوں کی ضروریات اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کو مدنظر رکھا گیا تاکہ ادارے کے لیے بہترین ممکنہ حل کا انتخاب کیا جا سکے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سابق انتظامی مرحلے میں بجٹ کی منظوری کے لیے صرف ایک مخصوص کمپنی کے مخصوص 640-Slice CT Scanner ماڈل کی فائل پیش کیے جانے کی اطلاعات تھیں، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے محدود مسابقت کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔
تاہم نئی انتظامیہ نے PPRA قواعد و ضوابط کے مطابق زیادہ شفاف اور مسابقتی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے تکنیکی Specifications کو غیر ضروری پابندیوں سے پاک کیا اور انہیں کھلے اور منصفانہ مقابلے کے اصولوں کے مطابق تشکیل دیا۔ اس اقدام کا مقصد تمام اہل اور قابل کمپنیوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا اور ادارے کے لیے بہترین ویلیو حاصل کرنا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی جائزے اور جانچ پڑتال کے بعد متعلقہ فورمز نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ٹینڈر کا عمل مکمل طور پر میرٹ، شفافیت، غیر جانبداری اور منصفانہ مقابلے کے اصولوں کے مطابق مکمل کیا گیا۔ جائزہ لینے والے حکام نے اس عمل کو قومی خزانے کے مؤثر استعمال اور عوامی مفاد کے تحفظ کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
متوقع طور پر منتخب ہونے والا جدید CT Scanner نظام PIMS میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو سنبھالنے، انتظار کے دورانیے میں کمی لانے اور جدید تشخیصی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ماہرین کے مطابق جدید امیجنگ ٹیکنالوجی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کے فیصلوں میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
صحت کے شعبے کے مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف PIMS کے لیے بلکہ پاکستان کے عوامی شعبہ صحت میں شفاف خریداری اور جدید طبی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بھی ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔