Advertisement

گجرات میں ستھراپنجاب کاماڈل،پنجاب کیلئے مثال بن گیا

گجرات میں ستھراپنجاب کاماڈل،پنجاب کیلئے مثال بن گیا
Metro53

Metro53 - گجرات (ویب ڈیسک)پنجاب میں صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت شروع کیے گئے ستھرا پنجاب پروگرام نے تحصیل گجرات میں نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں، جہاں شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کو ٹیکنالوجی، مسلسل نگرانی اور جدید مشینری سے جوڑ دیا گیا ہے۔

گجرات میں ستھرا پنجاب پروگرام کی کامیابی میں جہاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے صفائی کے جدید اور پائیدار نظام کے قیام کا ویژن بنیادی حیثیت رکھتا ہے، وہیں ڈپٹی کمشنر گجرات نورالعین قریشی کی انتظامی نگرانی اور مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ کو بھی اس ماڈل کی کامیابی کا اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق پروگرام کے آغاز سے اب تک 2 لاکھ 80 ہزار ٹن سے زائد سالڈ ویسٹ جمع کرکے منتقل کیا جا چکا ہے اور مقررہ ڈمپنگ سائٹ پر تلف کیا گیا ہے، جبکہ روزانہ اوسطاً 680 ٹن کچرا اٹھایا جا رہا ہے۔
597 گاڑیاں اور مشینیں، 2,873 اہلکار میدان میںگجرات میں صفائی کے وسیع آپریشن کے لیے 597 ویسٹ مینجمنٹ گاڑیاں اور مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں، جبکہ 2,873 سینی ٹیشن ورکرز فیلڈ آپریشنز اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
صفائی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے تحصیل گجرات میں 484 ویسٹ کنٹینرز، 6 ٹرانسفر اسٹیشنز، 56 ویسٹ انکلوژرز، 704 ہینڈ کارٹس اور 1,350 ویسٹ بنز بھی موجود ہیں۔
یہ اعدادوشمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ستھرا پنجاب محض صفائی مہم نہیں بلکہ ایک وسیع اور مسلسل سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کے طور پر کام کر رہا ہے۔
کچرا اٹھانے سے ڈیجیٹل مانیٹرنگ تک گجرات کے ستھرا پنجاب ماڈل کی ایک اہم خصوصیت صفائی کے عمل کی ڈیجیٹل اور KPI-based روزانہ مانیٹرنگ ہے۔ اس نظام کے ذریعے صفائی کے مختلف اہداف، کنٹریکٹرز کی کارکردگی اور سروس ڈیلیوری کو ڈیٹا کی بنیاد پر مانیٹر کیا جاتا ہے۔
اس ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام نے نہ صرف کارکردگی کے جائزے کو بہتر بنایا بلکہ شفافیت اور جوابدہی کے عمل کو بھی مضبوط کیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق گجرات میں متعارف کرایا گیا یہ ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ ماڈل بعد ازاں عالمی سطح پر بھی پیش کیا گیا اور Global COP30 Climate Change Conference میں پنجاب حکومت کے ٹیکنالوجی سے جڑے عوامی خدمات کے ماڈل کے طور پر اسے اجاگر کیا گیا۔
یکم ستمبر سے ’کلین گجرات‘ مہم کا آغاز
گجرات میں صفائی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے یکم ستمبر 2026سClean Gujrat – A Collective Commitment Towards a Cleaner, Healthier & Better Gujratکے عنوان سے خصوصی صفائی مہم بھی شروع کردی گئی ہے۔
یہ مہم کسی ایک دن کی سرگرمی تک محدود نہیں بلکہ اسے مسلسل اور مرحلہ وار فیلڈ آپریشن کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔
مہم کے دوران شہری، دیہی، تجارتی علاقوں اور صفائی کے ہاٹ اسپاٹس کو خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ڈور ٹو ڈور ویسٹ کلیکشن، دستی صفائی، مکینیکل واشنگ و سویپنگ، گلیوں اور عوامی مقامات کی خصوصی صفائی، بڑے پلاٹس سے کچرا اٹھانے، کنٹینرز کی کلیئرنس، تجارتی علاقوں کی صفائی اور نالوں کی ڈی سلٹنگ سمیت مختلف سرگرمیاں جاری ہی
84 یونین کونسلز میں صفائی آپریشن 
تحصیل گجرات میں مجموعی طور پر 84 یونین کونسلز ہیں، جن میں 21 شہری اور 63 دیہی یونین کونسلز شامل ہیں۔شہری علاقوں میں میونسپل کارپوریشن گجرات کی 12، میونسپل کمیٹی جلالپور جٹاں کی 5 اور میونسپل کمیٹی کنجاہ کی 4 یونین کونسلز شامل ہیں۔گجرات، جلالپور جٹاں اور کنجاہ کے اہم تجارتی علاقوں کے ساتھ ساتھ گجرات ریلوے اسٹیشن اور ملحقہ ترجیحی علاقوں میں بھی خصوصی صفائی آپریشن کیا جا رہا ہے، جبکہ تمام پارکس پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
صبح، شام اور رات—تین شفٹوں میں صفائی
خصوصی صفائی مہم کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے آپریشن صبح، شام اور رات کی مختلف شفٹوں میں جاری ہے۔سینیٹری ورکرز، سپروائزرز، سینیٹری انسپکٹرز، ڈرائیورز، ہیلپرز اور جدید ویسٹ مینجمنٹ مشینری کو بڑے پیمانے پر فیلڈ میں متحرک کیا گیا ہے۔
اس آپریشن کا بنیادی اصول ہے
Clean-Monitor-Revist-Re-Clean-Maintain
یعنی صرف ایک مرتبہ صفائی کرکے علاقے کو چھوڑنا نہیں بلکہ صفائی، نگرانی، دوبارہ وزٹ، دوبارہ صفائی اور مستقل مینٹیننس کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔
نورالعین قریشی کی نگرانی، مجاہد عباس کا فیلڈ آپریشن گجرات میں ستھرا پنجاب پروگرام کے نفاذ کی نگرانی ڈپٹی کمشنر نورالعین قریشی کر رہی ہیں، جبکہ مینیجنگ ڈائریکٹر ستھرا پنجاب ایجنسی گجرات مجاہد عباس آپریشنز کے عملی نفاذ اور نگرانی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کنٹریکٹرLtd( M/S ARAR Innovations(Pvt.
 مہم کے طے شدہ پلان کے مطابق صفائی کی سرگرمیوں پر عملدرآمد کر رہا ہے۔انتظامی سطح پر مانیٹرنگ اور فیلڈ میں مسلسل آپریشن کے امتزاج نے گجرات میں صفائی کے نظام کو روایتی طریقہ کار سے نکال کر ایک منظم، ڈیٹا بیسڈ اور مسلسل مانیٹرنگ والے ماڈل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔
گجرات کا ماڈل، پنجاب کے لیے مثال؟
ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت گجرات میں حاصل کیے جانے والے نتائج کو انتظامیہ پنجاب کی دیگر تحصیلوں کے لیے ایک ممکنہ بینچ مارک کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے صفائی کے جدید نظام کے ویژن، ڈپٹی کمشنر نورالعین قریشی کی انتظامی نگرانی، فیلڈ ٹیموں کی محنت اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے امتزاج سے گجرات میں ایسا ماڈل تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں صفائی ایک وقتی مہم نہیں بلکہ روزمرہ کی مستقل سروس بن سکے۔
صفائی صرف حکومت نہیں، سب کی ذمہ داری 
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صاف ستھرا گجرات صرف سرکاری اداروں یا صفائی عملے کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں، کاروباری افراد، سروس فراہم کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کھلے مقامات پر کچرا پھینکنے سے گریز کریں، مقررہ ویسٹ کلیکشن نظام استعمال کریں، صفائی عملے سے تعاون کریں اور اپنے گلی، محلے اور کاروباری علاقوں کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مریم نواز شریف کے ستھرا پنجاب ویژن سے لے کر گجرات میں نورالعین قریشی کی انتظامی نگرانی تک، سوال صرف یہ نہیں کہ کتنا کچرا اٹھایا گیا، بلکہ اصل امتحان یہ ہے کہ صفائی کے اس نظام کو کس حد تک مستقل، شفاف اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ گجرات کا موجودہ ماڈل اسی سمت ایک اہم قدم کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں