Metro53 - گجرات(ویب ڈیسک) ڈنگہ کے علاقے سے لاپتہ ہونے والی تین خواتین و بچی کی لاشیں ایک تالاب سے برآمد ہونے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
فصیلات کے مطابق عروج فاطمہ، حلیمہ سعدیہ اور دو سالہ رُکوع فاطمہ 25 اگست کو تھانہ ڈنگہ کے علاقے سے لاپتہ ہوئی تھیں۔ تینوں کے مبینہ اغواء کا مقدمہ بھی گزشتہ روز تھانہ ڈنگہ میں درج کیا گیا تھا۔
آج تینوں کی لاشیں محلہ چار گاہ، ڈنگہ میں واقع ایک تالاب سے برآمد ہوئیں۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، جبکہ کرائم سین یونٹ اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی، یعنی پی ایف ایس اے کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں تینوں کی موت پانی میں ڈوبنے کے باعث ہونے کا امکان سامنے آیا ہے، تاہم واقعے کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک شواہد کی روشنی میں ہی سامنے آئے گی۔
واقعے کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے۔ ڈی پی او گجرات اور ایس پی انویسٹی گیشن گجرات بھی ڈنگہ پہنچ گئے ہیں، جبکہ جدید تحقیقاتی ٹیم بھی ان کے ہمراہ موجود ہے۔
پولیس کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ تینوں تالاب تک کیسے پہنچیں اور ان کی موت کے اصل حالات کیا تھے۔ مزید حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔