پنجاب میں نئی صنعتی پالیسی متعارف، سرمایہ کاروں کو 10 سالہ ٹیکس چھوٹ کا اعلان

پنجاب میں نئی صنعتی پالیسی متعارف، سرمایہ کاروں کو 10 سالہ ٹیکس چھوٹ کا اعلان
Metro53

Metro53 - لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب کے وزیر صنعت، تجارت و سرمایہ کاری شافع حسین نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے فری انڈسٹریل زونز کے لیے نئی صنعتی پالیسی متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت سرمایہ کاروں کو چار سالہ پُرکشش لیز، صرف 30 روز میں این او سی کے اجرا سمیت متعدد خصوصی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔


انہوں نے یہ بات لاہور ایکسپو سینٹر، جوہر ٹاؤن میں منعقد ہونے والی کیمیکلز کی صنعت کی دو روزہ بین الاقوامی نمائش 11ویں کلر اینڈ کیم ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیر صنعت نے نمائش کا افتتاح آرگنائزرز راشد الحق، عبدالرحیم چغتائی اور دیگر معزز مہمانوں کے ہمراہ کیا۔ افتتاح کے بعد انہوں نے ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور جدید مصنوعات، ٹیکنالوجی اور صنعتی اختراعات کا جائزہ لیا۔

شافع حسین نے کہا کہ شیخوپورہ، بھلوال اور رحیم یار خان کے صنعتی علاقوں میں کوئی بھی سرمایہ کار صنعت قائم کر سکتا ہے، جہاں صنعتی مشینری کی درآمد پر صفر فیصد کسٹم ڈیوٹی اور دس سال کے لیے انکم ٹیکس سے استثنیٰ سمیت پرکشش مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چینی کمپنیاں بلند پیداواری لاگت اور مہنگی افرادی قوت کے باعث پنجاب میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور رواں مالی سال کے دوران مختلف شعبوں میں متعدد نئی فیکٹریاں قائم کی جائیں گی۔

وزیر نے کہا کہ اس سال فارماسیوٹیکل، مصنوعی چمڑا، فوڈ پروسیسنگ، لیتھیم بیٹریز، الیکٹرک بائیکس، ٹائلز اور دیگر صنعتی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی نئی صنعتی پالیسی کے تحت فری اکنامک زونز میں سرمایہ کاروں کو مزید پرکشش مراعات دی جا رہی ہیں تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کی کیمیکلز انڈسٹری کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور اس شعبے کی استعداد میں اضافے کے لیے ایک جامع پالیسی بھی متعارف کرائی جا رہی ہے۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شافع حسین نے کہا کہ ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باعث پاکستان کی سٹرس انڈسٹری متاثر ہوئی ہے، جبکہ ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا انحصار خطے میں امن و استحکام کی بحالی پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے عالمی بحران کے پیش نظر حکومت الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک بائیکس کے فروغ کو ترجیح دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں زیر تعمیر ملک کے پہلے چِپ فریم مینوفیکچرنگ پلانٹ (ویوو موبائل) کا تقریباً 40 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ یہ آئندہ ایک سال کے دوران پیداوار شروع کر دے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چینی کمپنیاں جلد ہی پنجاب میں لیتھیم بیٹریوں کی مقامی پیداوار بھی شروع کریں گی۔

وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 24 چھوٹے صنعتی اسٹیٹس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسان تاجر سکیم سے تقریباً 70 فیصد تاجروں نے استفادہ کیا ہے، جبکہ بڑے صنعتی اداروں کے لیے 10 کروڑ روپے تک قرضوں کی فراہمی کی نئی سکیم بھی جلد متعارف کرائی جا رہی ہے۔

نمائش کے آرگنائزر راشد الحق نے بتایا کہ ایکسپو میں 350 ملکی و غیر ملکی کمپنیوں نے اپنے اسٹالز قائم کیے ہیں، جہاں کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور جوائنٹ وینچر کے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

ایکسپو کے کنوینر عبدالرحیم چغتائی نے حکومت پر زور دیا کہ کیمیکلز انڈسٹری کی پیداواری لاگت میں کمی، خام مال کی مقامی سطح پر تیاری اور صنعت دوست پالیسیوں کے نفاذ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ملکی صنعت عالمی سطح پر مزید مسابقتی بن سکے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے کاروباری لاگت میں کمی کے لیے پیٹرولیم لیوی کم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کاروباری برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور حالیہ عرصے میں کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے کاروباری آپریشنز محدود یا بند کر دیے ہیں۔

11ویں کلر اینڈ کیم ایکسپو 2026 اتوار تک جاری رہے گی، جہاں صنعتکار، مینوفیکچررز، سرمایہ کار اور پالیسی ساز کیمیکلز کی صنعت میں ابھرتے ہوئے رجحانات، جدید ٹیکنالوجیز، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں