Metro53 - لندن ( ویب ڈیسک)سال 2025 کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں آنکھ کھولنے والے تقریباً 6 ہزار بچوں کا نام "محمد" رکھا گیا، جس نے دوسرے نمبر پر موجود نام "نوح" کو قریباً 2 ہزار کے واضح فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس ان دونوں ناموں کے درمیان یہ فاصلہ 1,580 تھا۔
اس سال "لیو" اور "لوکا" نے بھی تیزی دکھاتے ہوئے "آرتھر"، "اولیور" اور "جارج" جیسے ناموں کو پیچھے دھکیلا اور بالترتیب تیسرا اور چوتھا مقام اپنے نام کر لیا۔
جہاں تک لڑکیوں کے ناموں کی بات ہے تو "اولیویا" نے حسبِ روایت اپنا پہلا نمبر برقرار رکھا، جبکہ "للی"، "امیلیا"، "اسلا" اور "فلورنس" بھی والدین کی خاص توجہ کا مرکز بنے رہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ نام "محمد" 2016 سے مسلسل پہلے 10 ناموں کی فہرست میں جگمگا رہا ہے، جبکہ 1997 میں پہلی بار ٹاپ 100 میں شامل ہونے کے بعد سے اس کی مقبولیت کا سفر تھما نہیں۔ ماہرین کے نزدیک اس رحجان کی ایک بڑی وجہ برطانیہ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے، جو اب 40 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور ملک کی کل آبادی کا لگ بھگ 6 فیصد بنتی ہے۔
واضح رہے کہ سال 2023 میں "نوح" دوسرے اور "اولیور" تیسرے درجے پر تھے، جبکہ بچیوں میں "اولیویا" اور "امیلیا" اس وقت بھی سرفہرست ناموں میں شمار ہوتے تھے۔