Metro53 - گجرات (ویب ڈیسک): مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے گجرات میں آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے جموں 5 کے کارکنوں سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت "ہائبرڈ سا نظام" چل رہا ہے اور کشمیریوں کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری پاکستان کے سب سے بڑے محب وطن ہیں جو اپنی آزادی کے لیے خون کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان سے پاکستان آنے والے دریاؤں میں کشمیریوں کا خون شامل ہے، اس لیے مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کشمیر میں بیڈ گورننس کے باعث آج حالات اس نہج پر پہنچے ہیں اور خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب ایک ایم ایل اے کو وزیراعظم بنایا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مکمل سچ بولنا چاہیے کیونکہ آدھا سچ ہمیشہ حالات کو مزید خراب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگیں صرف فوجیں نہیں بلکہ پوری قومیں لڑتی ہیں اور بعد ازاں اس کے نتائج بھی قوموں کو ہی بھگتنا پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق کشمیریوں کو ووٹ کے ذریعے حقِ رائے دہی ملنا چاہیے اور کشمیر کے انتخابات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کشمیری اپنے مطالبات ضرور پیش کریں لیکن لاک ڈاؤن یا ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے حالات مزید خراب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات اور بات چیت کا ماحول پیدا ہونا چاہیے، مگر افسوس کہ اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ کشمیریوں کا ووٹ شمار نہ کیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کشمیر کو تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کے سیاسی مؤقف کی بنیاد پر کسی شخص کو غدار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، پاکستان کشمیریوں کا پاسبان، وکیل اور کشمیر اس کا بیس کیمپ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حالات میں پانچ سو افراد کا جلسہ کرنا بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ چند لوگوں نے عوامی تحریک کے نام پر ماحول خراب کر دیا۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ اس وقت کسی سرکاری عہدے پر نہیں ہیں اور ان کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، تاہم وہ چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کے مسائل کا کوئی قابلِ قبول حل نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیریوں کا سب سے بڑا دشمن ہندوستان ہے جو موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے سیاسی مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور عابد رضا کوٹلہ اگرچہ گزشتہ انتخابات میں کامیاب نہیں ہوئے، تاہم اس مرتبہ ان کا سیاسی اثاثہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی کھال موٹی ہوتی ہے، وہ مشکلات برداشت کرتے ہیں مگر گالی کا جواب گالی سے نہیں دیتے۔