اگر مائیکل جیکسن اسلام قبول کرلیتے توآج ہمارے درمیان زندہ ہوتے،محمد عبدالعزیز

اگر مائیکل جیکسن اسلام قبول کرلیتے توآج ہمارے درمیان زندہ ہوتے،محمد عبدالعزیز
Metro53

Metro53 - پاپ اسٹار مائیکل جیکسن کے بڑے بھائی جرمین جیکسن، جو اسلام قبول کرنے کے بعد محمد عبدالعزیز کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، نے ایک بار پھر اپنے مذہبی خیالات اور مرحوم بھائی کے حوالے سے دیے گئے بیان کے باعث توجہ حاصل کر لی ہے۔

محمد عبدالعزیز نے مختلف انٹرویوز میں بتایا کہ انہوں نے 1989 میں مشرقِ وسطیٰ کے ایک سفر کے دوران اسلام قبول کیا تھا، اسلام لانے کے بعد اپنا اسلامی نام محمد عبدالعزیز رکھا، جس کے بعد ان کی زندگی میں سکون، مقصد اور روحانی اطمینان پیدا ہوا، اسلامی تعلیمات نے شہرت اور شوبز کی دنیا کے دباؤ کے درمیان ذہنی سکون فراہم کیا۔

محمد عبدالعزیز متعدد مواقع پر یہ بھی بتا چکے ہیں کہ انہوں نے مائیکل جیکسن کو اسلام سے متعلق کتابیں دی تھیں۔

مائیکل جیکسن کی پہلی برسی کے موقع پر محمد عبدالعزیز نے کہا "میرا دل کہتا ہے کہ اگر مائیکل اسلام قبول کر لیتے تو وہ آج ہمارے درمیان زندہ ہوتے"۔

مائیکل کو وہ روحانی سکون اور ذہنی تحفظ مل جاتا جس کی وہ اپنی زندگی میں تلاش کر رہے تھے۔

محمد عبدالعزیز کے یہ خیالات ماضی میں بھی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کرتے رہے ہیں اور آج بھی ان کے روحانی سفر اور اسلام قبول کرنے کے فیصلے کو دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں