Metro53 - لاہور ( ویب ڈیسک) آسٹریلیا سے وطن واپس پہنچتے ہی قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی پھٹ پڑے۔ دورہ آسٹریلیا کے دوران کس بد انتظامی کا سامنا کرنا پڑا، کیا کیا مشکلات پیش آئیں، سب کچھ قوم کے سامنے رکھ دیا۔
پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے موجودہ انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی اس مینجمنٹ کے ساتھ مزید کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو جس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ ناقابلِ برداشت ہیں اور اس تمام صورتحال نے کھلاڑیوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عماد بٹ نے کہا کہ دورے کے دوران کھلاڑیوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں تھیں۔ ہمیں اپنا ناشتہ خود بنانا پڑا، برتن خود دھونے پڑے اور روزمرہ کے تمام انتظامات اپنی مدد آپ کے تحت کرنا پڑے۔ ایسے حالات میں کسی بھی ٹیم سے بہترین کارکردگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم پر کیا گزری ہے اور تمام کھلاڑی اس معاملے پر متحد ہیں۔
کپتان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر انہوں نے آواز اٹھائی تو ان پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ کھلاڑی ہیں جو میدان میں ملک کے لیے اپنی جان لڑا دیتے ہیں، اگر ان پر پابندی لگانے کا سوچا بھی جا رہا ہے تو یہ شرمناک بات ہے۔
عماد بٹ نے دورۂ آسٹریلیا کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب ٹیم سڈنی پہنچی تو وہاں کوئی انتظام موجود نہیں تھا اور کھلاڑیوں کو بارہ گھنٹے تک سڑکوں پر انتظار کرنا پڑا۔ اس کے بعد جب ہم ہوبارٹ پہنچے تو بتایا گیا کہ ہوٹل کی بکنگ کی ادائیگی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے ہمیں وہاں بھی چیک اِن کی اجازت نہیں ملی۔ مزید چار سے پانچ گھنٹے کی تاخیر کے بعد ہمیں ایئر بی این بی طرز کی رہائش میں منتقل کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کھلاڑیوں کے لیے پیشہ ورانہ انداز میں کھیل جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور اگر معاملات کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے آسٹریلیا میں پاکستان ہاکی میں بدانتظامی کا نوٹس بھی لیا تھا۔ حکومت کی جانب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو 25 کروڑ روپے کی گرانٹ ملنے کے باوجود قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی آسٹریلیا میں رُلتے رہے ۔
پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ہاکی میں اس بد انتظامی کا نوٹس لیا جبکہ پی ایس بی نے تحقیقات کا آغاز بھی کردیا۔ ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔