Metro53 - گجرات ( مرزا عامر بیگ سے ) گجرا ت کے گاؤں ترکھا میں ظلم کی داستان، 8 اوباشوں نے 15 سالہ طالبہ کیساتھ گینگ ریپ کی ویڈیو بنالی۔
تھا نہ کنجاہ کے گاؤں ترکھا میں چند ماہ قبل او باش ملزمان نے 15 سالہ میٹرک کی طالبہ کو سر عام ہراساں کیا، سر سے دوپٹہ کھینچ کر ، کپڑے اتار کر روڈ پر برہنہ کر دیا اور موبائل پر ویڈیو بناتے رہے طالبہ ملزمان کے آگے ہاتھ جوڑتی بعد ازاں ملزمان بچی کو با اثر شخص کی کوٹھی میں لے گئے اور اسے باری باری زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے طالبہ کی دوران زیادتی دوبارہ ویڈیو بنائی اوربلیک میل کیا۔
15 سالہ بچی گھر میں خاموش رہنے لگی بچی کی والدہ کینسر کی مریض ہے جبکہ والد محنت مزدوری کرتا ہے بچی کے والد رحمت علی نے تھا نہ کنجاہ میں احسن ظفر علی اکرم، عثمان نذیر احمد سعید ، حسن نذیر سمیت 3 نا معلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے ۔مقدمہ کئی ماہ بعد درج کیا گیا ہے پولیس تھا نہ کنجاہ نے مقدمہ درج کر کے ایک ملزم کو حراست میں لیکر تفتیش شروع کر دی ہے ۔مدعی مقدمہ نے ایف آئی آر میں الزام لگایا ہے کہ ملزمان اس سے پہلے بھی سکول کی بچیوں کیسا تھ ایسے واقعات کر چکے ہیں اور ملزمان موٹر سائیکلوں پر سکول کی چھٹی کے وقت بچیوں کو ہراساں کرتے ہیں ۔
مدعی مقدمہ رحمت علی نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین ، صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین ، ایم پی اے چوہدری موسیٰ الہی ، آئی جی پنجاب ، ڈی پی او گجرات و اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ترکھا میں تکمین نویت کے وقوعہ کی تفصیلی انکوائری کروائی جائے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔