ایم ایس ایم ایز حکومتی معاشی وژن کا مرکزی حصہ، ہارون اختر خان

ایم ایس ایم ایز حکومتی معاشی وژن کا مرکزی حصہ، ہارون اختر خان
Metro53

Metro53 - اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) موجودہ معاشی چیلنجز کے دوران قومی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور حکومت اس شعبے کو بھرپور معاونت فراہم کر رہی ہے۔

 

انہوں نے ورلڈ ایم ایس ایم ای ڈے 2026 کے موقع پر منعقدہ ایک انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ایم ایس ایم ایز کی مالی معاونت، کاروبار کی رجسٹریشن، استعداد کار میں اضافے اور تربیتی مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

یہ تقریب اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کی جانب سے اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز میں منعقد کی گئی، جس کا مقصد ملک بھر کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں تک حکومتی سہولیات اور معاونت پہنچانا تھا۔

ہارون اختر خان نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق 31 مارچ 2026 تک ایس ایم ای فنانسنگ پورٹ فولیو 853.94 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 584.44 ارب روپے تھا، یعنی 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ایس ایم ای قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد 203,139 سے بڑھ کر 312,355 ہو گئی، جو 53.7 فیصد اضافے کی عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کاروباری شخصیات اور پسماندہ علاقوں میں قائم مائیکرو انٹرپرائزز کی معاونت کے لیے بھی پرعزم ہے تاکہ ایک مضبوط، مسابقتی اور پائیدار کاروباری ماحول تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے علی بابا، جائیکا (JICA)، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (PIFD) اور مائیکرو فنانس اداروں کے ساتھ تعاون کو ایم ایس ایم ایز کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی اہم کاوش قرار دیا۔

اس موقع پر سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہانگیر سیٹھ نے کہا کہ ورلڈ ایم ایس ایم ای ڈے پاکستانی کاروباری افراد کی جدوجہد، جدت اور قومی معیشت میں ان کے کردار کو سراہنے کا بہترین موقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سمیڈا اپنے تین سالہ بزنس پلان کے تحت کاروباروں کو بینکنگ نظام سے منسلک کرنے، ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے، مفت رجسٹریشن، برآمدی تیاری، کاروباری روابط اور ماحولیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ایس ایم ای سرٹیفکیشن اینڈ انٹرنیشنل ایکریڈیٹیشن گرانٹ پروگرام اور کیلے کے فضلے کو ماحول دوست ٹیکسٹائل میں تبدیل کرنے کے پانچ سالہ منصوبے کا بھی ذکر کیا۔

اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے صدر اویس ستی نے حکومت کی جانب سے ایم ایس ایم ای شعبے پر خصوصی توجہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون اور مالیاتی سہولیات تک بہتر رسائی اس شعبے کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ ورلڈ ایم ایس ایم ای ڈے ہر سال 27 جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، جدت طرازی اور پائیدار معاشی ترقی میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس سال سمیڈا نے اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، ملتان، سرگودھا، ایبٹ آباد، حیدرآباد، دادو، سکھر اور میرپور سمیت مختلف شہروں میں خصوصی تقریبات اور مذاکروں کا انعقاد کیا۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں