Metro53 - لاہور (ویب ڈیسک): معروف کالم نگار اور ماہرِ تعلیم توفیق بٹ کے وکیل ایڈووکیٹ رانا انتظار اور ان کی قانونی ٹیم نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پاس) ایسوسی ایشن پنجاب چیپٹر کے صدر بابر امان بابر کو قانونی نوٹس جاری کر دیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک سرکاری دفتر کو پاس ایسوسی ایشن کے دفتر کے طور پر ذاتی حیثیت میں استعمال کیا۔
قانونی نوٹس کے مطابق ایڈووکیٹ رانا انتظار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب گورنمنٹ رولز آف بزنس 2011 کے تحت کسی بھی نجی تنظیم یا ایسوسی ایشن کو اپنی سرگرمیوں کے لیے سرکاری دفتر یا عمارت مختص نہیں کی جا سکتی۔
نوٹس میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے تحت اس معاملے سے متعلق تمام ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے اور متعلقہ دستاویزات فراہم کی جائیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کالم نگار توفیق بٹ اور ایک مقامی روزنامے کے ایڈیٹر کو مبینہ طور پر بیوروکریسی کے خلاف ہتک آمیز مواد شائع کرنے کے الزام میں طلب کر رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی بابر امان بابر کی شکایت پر عمل میں لائی گئی۔
شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ توفیق بٹ نے اپنے ایک کالم میں بیوروکریٹس کے لیے ’’بیورو کرپٹس‘‘ کی اصطلاح استعمال کی، جو نہ صرف توہین آمیز اور ہتک آمیز ہے بلکہ اس سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور اس کے افسران کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ توسیع یا تزئین و آرائش سے متعلق سوشل میڈیا پر مواد شیئر کرنے کے معاملے میں تین میڈیا کارکنان غیر مشروط معافی بھی مانگ چکے ہیں۔
قانونی نوٹس کے بعد اس معاملے میں مزید پیش رفت اور ممکنہ قانونی کارروائی پر سیاسی و انتظامی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔