جہلم میں رمضان کے دوسرے عشرے میں بھی مہنگائی برقرار

جہلم میں رمضان کے دوسرے عشرے میں بھی مہنگائی برقرار
Metro53

Metro53 - جہلم ( ویب ڈیسک )رمضان المبارک کے پہلے عشرے کے اختتام اور دوسرے عشرے کے آغاز کے باوجود ضلع جہلم اور اس کے گردونواح میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے سرکاری نرخنامہ جاری کیے جانے کے باوجود بازاروں میں من مانی قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں، جس کے باعث عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سرکاری نرخنامہ اور زمینی حقائق

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رمضان کے آغاز پر مختلف اشیائے ضروریہ کے نرخ مقرر کیے گئے تھے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ تاہم شہریوں کے مطابق دکاندار سرکاری قیمتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سرکاری ریٹ لسٹ میں کیلا 250 روپے فی درجن مقرر ہے، مگر بازاروں میں یہی کیلا 350 روپے فی درجن فروخت ہو رہا ہے۔

اسی طرح سیب 500 روپے فی کلوگرام، بکرے کا گوشت 2200 روپے اور گائے کا گوشت 1200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے، جو کہ عام صارف کی قوتِ خرید سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دیگر پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اسی نوعیت کا فرق موجود ہے۔

پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر سوالات

عوامی حلقوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر باقاعدگی سے بازاروں کی نگرانی اور جرمانے عائد کیے جائیں تو گراں فروشی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو پا رہا۔

ماہرین کے مطابق رمضان کے دوران طلب میں اضافہ ہونا ایک فطری امر ہے، لیکن اس موقع پر ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے حکومتیں خصوصی مانیٹرنگ میکنزم متعارف کراتی ہیں تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

عوامی ردعمل اور مطالبات

روزہ دار شہریوں نے شکایت کی ہے کہ مہنگائی کے باعث افطار کے لیے بنیادی اشیاء کی خریداری بھی مشکل ہو گئی ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گراں فروشی کے خلاف مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور منافع خور عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

مجموعی طور پر جہلم میں رمضان کے دوسرے عشرے کے دوران مہنگائی کا برقرار رہنا انتظامی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے حل کے لیے مربوط حکمتِ عملی اور مسلسل نگرانی ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔

 

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں