Metro53 - لاہور ( ویب ڈیسک) نجی یونیورسٹی کی طالبہ نے پسند کا رشتہ نہ ہونے اور خاندان کا دباؤ کے باعث خودکشی کی کوشش کی، جس کے بعد اسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس کی انکوائری جاری ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق فاطمہ، جو نارنگ منڈی کی رہائشی ہے، احمد نامی نوجوان سے شادی کرنا چاہتی تھی، تاہم لڑکی کے اہلخانہ شادی کے حق میں نہیں تھے اور طالبہ کو تعلیم مکمل کرنے پر کہہ رہے تھے۔ شادی نہ ہونے کی وجہ سے دلبراشتہ فاطمہ نے خودکشی کی کوشش کی۔ طالبہ نے آخری فون کال بھی احمد کو ہی کی تھی، جس کے بعد اس نے لڑکے کا نمبر ڈیلیٹ کر دیا۔ پولیس نے اہلخانہ کے بیان ریکارڈ کر لیے ہیں اور کیس میں مزید تحقیقات جاری ہے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید قریشی نے روزنامہ جہان پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تاحال یونیورسٹی کی جانب سے کسی دباؤ یا پریشر کے شواہد نہیں ملے۔ پولیس نے طالبہ کے کلاس فیلوز اور یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی تفصیلی تفتیش کی ہے۔ دوسری جانب زخمی طالبہ کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ کی تشکیل نو کر دی گئی ہے۔ بورڈ کے ارکان کی تعداد 4سے بڑھا کر 7کر دی گئی ہے۔ بورڈ میں پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر خرم سلیم، شعبہ پلمونالوجی کے سربراہ ڈاکٹر جاوید مگسی اور ایسوسی ایٹ پروفیسر گائنی ڈاکٹر سائرہ ذیشان شامل ہیں۔ سینئر ڈاکٹر طالبہ کی مسلسل نگہداشت کر رہے ہیں جبکہ پرنسپل پروفیسر فاروق افضل بھی علاج کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ مزید برآں یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی واضح کیا ہے کہ واقعے کی مکمل چھان بین جاری ہے، تمام پہلوئوں کی چھان بین کے بعد حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ دریں اثنا جنرل ہسپتال میں زیر علاج طالبہ ہوش میں آ گئی۔ ڈاکٹرز کے مطابق آئی سی یو میں زیر علاج 21سالہ طالبہ فاطمہ کی حالت میں نمایاں بہتری ہوئی، مریِضہ کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ طالبہ فاطمہ اب خود سانس لے رہی ہیں، آکسیجن سپورٹ جاری ہے جبکہ ہیمو ڈائنامکس بھی مستحکم ہیں اور مکمل ہوش میں آنے کے بعد جی سی ایس لیول 14؍15ریکارڈ ہوا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ فاطمہ کی اپنے اہلِ خانہ سے بات چیت بھی ہوئی ہے، اِس کے علاوہ نیورو سرجیکل ٹیم بھی متحرک ہے، ریڑھ کی ہڈی کی ممکنہ سرجری سے متعلق دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری جانب چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم نے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر فاروق افضل کو طالبہ کی حالت پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ اُنہوں نے پرنسپل کو طالبہ کے اب تک کے علاج اور آئندہ کے طبی لائحہ عمل سے متعلق مکمل طور پر آگاہ کر دیا۔