لاہور یونیورسٹی میں فاطمہ نے چھلانگ لگانے سے قبل گھر کال کی،معاملے کی تحقیقات جاری ، ڈی آئی جی فیصل کامران

لاہور یونیورسٹی میں  فاطمہ نے چھلانگ لگانے سے قبل  گھر کال کی،معاملے کی تحقیقات جاری ، ڈی آئی جی فیصل کامران
Metro53

Metro53 - لاہور( ویب ڈیسک) یونیورسٹی آف لاہور میں ڈی فارم کی فرسٹ سمسٹر کی 21سالہ طالبہ فاطمہ کی مبینہ خود کشی کی تمام پہلوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ڈی آئی جی فیصل کامران کانجی چینل سما ء سے گفتگو کرتے ہوئے کہناہے ، یونیورسٹی آف لاہور خودکشی کادوسرا واقعہ افسوس ناک ہے،دونوں واقعے ایک یونیورسٹی میں ایک ڈیپارٹمنٹ میں ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔

ڈی آئی جی فیصل کامران نے مزید کہا تحقیق سےپتہ چلا کہ یونیورسٹی کی جانب سے فاطمہ کو فیس حاضری اورانتظامیہ کے کسی قسم کےسخت رویے کاسامنا  نہیں تھا،دوسری جانب طالبہ کو گھریلوں مسائل  سمیت مینٹل ہیلتھ   کی پرابلم ہونے  کی اطلاعات بھی سامنے آئی  ہیں،یہ بھی بتایا جارہا ہے فاطمہ نے خود کشی  کی کوشش سے پہلے گھر کال کی پھر  یونیورسٹی کے بلڈنگ سے چھلانگ لگادی  جس سے فاطمہ کی ٹانگوں  میں فریکچر آیا ہے سر پر چوٹوں  کے حوالے  سے کوئی بات کنفرم  نہیں  جوہی بچی کوہوش آئے گا اس کےبعد اصل فیکٹ اینڈنگ سامنے لائیں جائیں گیں۔ بچوں کی سیفٹی  کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

ڈی آئی جی فیصل کامران نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے چند روز قبل اسی یونیورسٹی میں خود کشی کرنیوالے اسٹوڈنٹ اویس سلطان    بارے کہا کہ  اس کیس میں حقائق کچھ اورہیں اویس کےاہل خانہ سے ملاقات  کےبعد معلوم ہوا بچہ شدید ذہنی مسائل کاشکار تھا۔اس  حوالے سے  ہماری ٹیمیں  مسلسل تفیتش میں مصروف ہیں جوں ہی فائنل رپورٹ آتی ہے  عوام کے سامنے اصل حقائق سامنے  لائیں گے۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں