کے پی حکومت کا نگران دور میں پی ٹی آئی کارکنوں پر بنے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ

کے پی حکومت کا نگران دور میں پی ٹی آئی کارکنوں پر بنے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ
Metro53

Metro53 - پشاور(ویب ڈیسک )خیبرپختونخوا حکومت نے نگران دور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ مقدمات 9 اور 10 مئی کے واقعات کے بعد درج کیے گئے تھے جن میں پی ٹی آئی کے متعدد رہنما اور کارکن نامزد ہوئے تھے۔

ایڈووکیٹ جنرل آفس نے ان مقدمات کے تفصیلی جائزے کے بعد 51 مقدمات واپس لینے کی سفارشات متعلقہ حکام کو بھیج دی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مقدمات میں سزا کی صورت میں بعض اراکینِ اسمبلی کے نااہل ہونے کا خدشہ تھا، جس کے باعث حکومت نے قانونی پہلوؤں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔

حکام کے مطابق مقدمات سے دستبرداری کا حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہے۔

کابینہ کی منظوری کے بعد عدالتوں میں رسمی کارروائی کے ذریعے مقدمات واپس لیے جائیں گے، اور ریاست دعویداری سے دستبردار ہوجائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 9 اور 10 مئی کے مقدمات سے متعلق رپورٹ اور سفارشات تیار کر کے بھیج دی گئی ہیں، اور اب کابینہ نے ہی حتمی منظوری دینی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے اراکین و کارکنوں کے خلاف مجموعی طور پر 319 مقدمات درج ہوئے تھے جن میں سے 51 اب بھی زیرِ التوا ہیں اور انہی کے بارے میں سفارشات ارسال کی گئی ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنا چاہتی ہے اور مقصد انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کابینہ جلد از جلد فیصلہ کرکے آگے کی کارروائی کا راستہ ہموار کرے گی۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں