Metro53 - اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان نے سوڈان کو اسلحہ اور لڑاکا طیاروں کی فراہمی کے لیے تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالرز کا معاہدہ مؤخر کر دیا ہے، جب کہ سعودی عرب نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس کی مالی معاونت نہیں کرے گا۔ یہ بات پاکستانی سیکیورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے نے خبر ایجنسی’’ روئٹرز ‘‘کو بتائی ہے۔
سوڈان میں فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری تنازع گزشتہ 3 برسوں سے دنیا کے بدترین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا بلکہ اسے غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کی کشمکش کا میدان بھی بنا دیا ہے، جس سے بحیرۂ احمر کے اس اہم ملک کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ سوڈان سونے کی پیداوار کے حوالے سے بھی ایک اہم ملک سمجھا جاتا ہے۔
’’روئٹرز‘‘ کے مطابق یہ دفاعی معاہدہ جنوری میں آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا اور اسے سعودی عرب کی ثالثی میں طے کیا گیا تھا، تاہم اس وقت ریاض کی جانب سے مالی معاونت کا ذکر سامنے نہیں آیا تھا۔ یہ معاہدہ ان کئی دفاعی سودوں میں شامل تھا جن پر پاکستانی فوج کام کر رہی تھی، خاص طور پر اس وقت جب گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے بعد پاکستان کے طیاروں اور ہتھیاروں کی صلاحیت کو عالمی سطح پر توجہ حاصل ہوئی۔
سعودی عرب پاکستان کا قریبی اتحادی ہے اور اسلام آباد کی کمزور معیشت کو سہارا دینے کے لیے اہم قرضوں اور مالی مدد کا بڑا ذریعہ بھی رہا ہے۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے بعد دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے اشارہ دیا ہے کہ جب اس نے اس معاہدے کی مالی معاونت کا ارادہ ترک کر دیا تو پاکستان کو بھی اس معاہدے کو ختم کر دینا چاہیے۔ سعودی حکام کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سوڈان کی مسلح افواج نے بھی اس بارے میں تبصرہ نہیں کیا۔ پاکستانی فوج نے بھی اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، اور اس سے قبل بھی اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
ایک ذریعے نے مزید بتایا کہ کچھ مغربی ممالک نے سعودی عرب کو مشورہ دیا ہے کہ وہ افریقہ میں پراکسی جنگوں سے دور رہے۔ خطے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مختلف تنازعات میں مخالف فریقوں کی حمایت کرتے رہے ہیں، جن میں سوڈان بھی شامل ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک سفارتی حل کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم سعودی عرب سوڈانی فوج کے قریب سمجھا جاتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی لاجسٹک مدد کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے، جس کی وہ تردید کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مارچ میں ریاض میں سوڈانی فوجی قیادت اور سعودی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد اس معاہدے کی مالی معاونت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالرز کے ایک اور ممکنہ دفاعی معاہدے پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ سعودی عرب ان ممالک کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہا ہے۔