Metro53 - گجرات (مرزا عامر بیگ سے) شہر بھر میں گلی محلوں میں کھلے عام کام کرنے والے عطائی ڈاکٹروں نے سادہ لوح عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ڈی ایچ او گجرات سمیت ڈسٹرکٹ و تحصیل سینٹری انسپکٹرز کے پاس مکمل فہرستیں موجود ہونے کے باوجود اب تک کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔
ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں محکمہ صحت کے بعض ملازمین بھی خود بطور عطائی کلینک چلا رہے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر اعلیٰ افسران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ افراد کئی سالوں سے نہ صرف عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں بلکہ ان کی صحت و زندگی سے بھی کھیل رہے ہیں۔
ڈاکٹرز کی رجسٹرڈ تنظیموں، سیاسی و سماجی شخصیات نے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب اور ڈائریکٹر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (PHC) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر عطائیت کے خاتمے کے لیے سخت اور عملی اقدامات کریں اور محکمہ صحت گجرات کے غفلت برتنے والے افسران کے خلاف بھی انکوائری کی جائے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ عطائیت کے خلاف ہر بار صرف "کاغذی کارروائی" کر کے سب اچھا کی رپورٹ دے دی جاتی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں