Metro53 - منڈی بہاؤالدین (ویب ڈیسک) شدید بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث ضلع منڈی بہاؤالدین کے بیشتر علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں۔ سینکڑوں افراد گھروں کی چھتوں اور اونچی جگہوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں وہ حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے میں مصروف ہیں، مگر متاثرین کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں نہایت سست روی کا شکار ہیں۔
دوسری جانب حافظ آباد کے نواحی دیہات میں بھی پانی نے بستیوں کو چاروں جانب سے گھیر لیا ہے۔ لوگ خوراک، پینے کے پانی، اور مویشیوں کے لیے چارے کی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔
کمالیہ میں حالات مزید سنگین ہو چکے ہیں، جہاں لوگ کھلے آسمان تلے بغیر کسی سہولت کے بیٹھے ہیں۔ شکر گڑھ میں سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے، جس سے سامان تباہ اور رابطہ سڑکیں برباد ہو گئی ہیں۔
وزیرآباد کے قریب واقع نالہ پلکھو اوور فلو ہونے کے باعث قریبی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق کئی مویشی پانی میں بہہ گئے جبکہ قیمتی سامان کا نقصان بھی ہوا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ریلیف کی فراہمی، خوراک، ادویات اور عارضی رہائش کا انتظام وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر امدادی کام تیز کرے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔