Metro53 - جہلم (ویب ڈیسک ) وادی کشمیر اور بالائی پنجاب میں مسلسل بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی برقرار ہے۔۔ ضلح جہلم کی تحصیل دینہ کے علاقے ڈومیلی میں منی ڈیم کا بند ٹوٹ گیا ہے جس کے باعث پانی گھروں میں داخل ہوچکا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک سیلاب کے باعث صوبہ پنجاب میں اب تک 30 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں،مانگا منڈی اور گاؤں ملہی سے 15 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ جبکہ ہیڈ اسلام پر پانی کی سطح میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 29 ہزار کیوسک پر پہنچ گیا ہے۔ بلوکی کے مقام پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ 2 لاکھ 11 ہزار کیوسک سے زائد کا ریلہ گزر رہا ہے۔ڈائریکٹر جنرل پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ بھارت میں بند ٹوٹنے کے سبب پانی قصور کی طرف بڑھا، دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی آیا ہے۔ قصور شہر بچانے کے لیے آر آر اے ون بند میں شگاف ڈالا گیا ہے۔
مزید برآں سیلاب کے باعث 280 دیہات ڈوب چکے جبکہ مجموعی طور پر 15 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 2 لاکھ 48 ہزار افراد کے سائبان چھن گئے۔پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق اب تک سیلاب کے باعث صوبے میں 30 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں تاہم بروقت ریسکیو آپریشنز کے باعث مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا ہے، جبکہ درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔
ادھر پاکپتن میں اونچے درجے کے آبی ریلے نے تباہی مچادی جس کے باعث متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے جبکہ کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں۔ اہم سڑک کے ڈوبنے سے کئی آبادیوں کا زمینی راستہ منقطع ہوگیا ہے جس سے علاقہ مکینوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ ادھر ہیڈمرالہ اور سیالکوٹ کے درجنوں دیہات ڈوب گئے جس کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوگئی اور لوگ بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے۔
دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ بلند ہونے لگا، نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔بیراج حکام کے مطابق سکھر بیراج کے مقام پر 24 گھنٹوں میں 31 ہزار کیوسک پانی کا اضافہ ہوا ہے۔حکام نے کہا کہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 15 ہزار 172 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پانی کا اخراج 2 لاکھ 60 ہزار 512 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔