Metro53 - لندن ( ویب ڈیسک )بی بی سی اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث چینی طالب علم زینہاؤ زاو نے دو خواتین کو 24 گھنٹے کے وقت کے اندر ریپ کا نشانہ بنایا۔
ریپ کا شکار ہونے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ دوسری خاتون پر حملے کا سن کر وہ حیران ہو گئیں اور ریپ کے بارے میں پولیس کو فوری مطلع نہ کرنے پر انھیں احساسِ جرم محسوس ہو رہا ہے۔زینہاؤ زاو کے کیس کے بارے میں میٹروپولیٹن پولیس کا خیال تھا کہ شاید یہ دونوں حملے ایک ہی خاتون پر ہوئے کیونکہ بہت ہی کم وقفے سے دونوں ریپ ملتے جلتے حالات میں ہوئے۔
تحقیقات سے آگاہ ایک اہلکار نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ زاو بہت پر اعتماد تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ (زاو) اس وقت کے دوران زیادہ سے زیادہ کرنا چاہتے تھے۔‘رواں سال جون میں چینی طالب علم زینہاؤ زاو کو کم سے کم 24 سال قید کی سزا سنائی گئی۔لندن میں پی ایچ ڈی کرنے والے چینی طالب علم زینہاؤ زاو کو دو بر اعظموں میں 10 خواتین کو منشیات دینے اور ان کا ریپ کرنے پر سزا سنائی گئی۔
اُن کا شکار بننے والی تمام خواتین کا تعلق بظاہر چین سے ہے اور ان میں تین کو برطانیہ اور سات کو چین میں ریپ کیا گیا۔لیکن مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد تفتیش کاروں نے زاو کو برطانیہ کا سب سے ’چالاک حملہ آور‘ قرار دیا کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ وہ مزید خواتین پر حملہ کر سکتے ہیں۔کیس کی سماعت کے بعد سے اب تک چین اور برطانیہ میں 24 خواتین کی شکایات سامنے آئی ہیں، جن میں یہ دو خواتین بھی شامل ہیں۔