Metro53 - گجرات (مرزا عامر بیگ) جلالپور جٹاں کے شہباز پور روڈ پر نکاسی آب کے لیے 13 کروڑ روپے کی لاگت سے زیرِ تعمیر سیوریج نالہ برسات کی پہلی بارش میں ہی پانی کے ساتھ بہہ گیا۔ نالہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ زمین بوس ہو گیا، جس پر اہلِ علاقہ نے شدید احتجاج کیا اور حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
عینی شاہدین اور مقامی شہریوں کے مطابق نالے کی تعمیر کے دوران ہی ناقِص میٹریل، غیر معیاری کام اور ریتی دیواروں کی شکایات کی گئیں، لیکن نہ کسی افسر نے وزٹ کیا اور نہ کسی نے نوٹس لیا۔ نالے کی کنکریٹ کی دیواروں میں بڑے سوراخ موجود ہیں جہاں سے پانی مسلسل رس رہا ہے، اور خدشہ ہے کہ جلد ہی باقی حصہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔
یہ منصوبہ ایم پی اے چوہدری عبداللہ یوسف کی تجویز پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ایس جی ڈی ایس پروگرام کے تحت منظور ہوا۔ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس پنجاب نے 13 کروڑ روپے کا ٹھیکہ میسرز چوہدری ریاست علی چیمہ کو دیا، اور سپروژن کی ذمہ داری میسرز اے زیڈ انجینئرنگ ایسوسی ایٹس کو سونپی گئی۔ حیرت انگیز طور پر ٹھیکیدار کو اب تک 8 کروڑ روپے ادا کیے جا چکے ہیں، جبکہ نالہ اپنی تکمیل سے پہلے ہی ناکارہ ہو چکا ہے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ وہ بارہا متعلقہ محکموں کو آگاہ کرتے رہے، لیکن کسی افسر، انجینئر یا ڈپٹی کمشنر نورالعین نے وزٹ کرنا تک گوارا نہ کیا۔ محمود آباد اور گردونواح کے عوام نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔