میکسیکو میں فٹبال گراؤنڈ میں دوران میچ فائرنگ، 11 افراد ہلاک

میکسیکو میں فٹبال گراؤنڈ میں دوران میچ فائرنگ، 11 افراد ہلاک
Metro53

Metro53 - ویب ڈیسک(ویب ڈیسک) وسطی میکسیکو میں ایک فٹبال گراؤنڈ پر مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 12 زخمی ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق یہ واقعہ ملک میں بڑھتے ہوئے مجرمانہ تشدد کی تازہ مثال ہے۔

فائرنگ کا واقعہ ریاست گواناخواتو کے تشدد سے متاثرہ شہر سلامانکا کے علاقے لوما دے فلوریس میں اس وقت پیش آیا جب ایک مقامی فٹبال میچ اختتام پذیر ہوا اور تماشائی میدان میں موجود تھے۔

بلدیاتی اور ریاستی حکام کے مطابق میچ کے فوراً بعد مسلح افراد میدان میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی 10 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک زخمی بعد میں اسپتال میں دم توڑ گیا۔
سلامانکا
 کے میئر سیزر پریئتو نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں مجرمانہ تشدد خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور منظم جرائم پیشہ گروہ ریاستی رٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میئر کے مطابق، ’’بدقسمتی سے بعض مجرمانہ گروہ حکام کو زیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔‘‘

میئر سیزر پریئتو نے صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم اور ریاستی حکام سے فوری طور پر اضافی سیکیورٹی اقدامات کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر اس وقت ایک سنگین سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔

ریاست گواناخواتو کے پراسیکیوٹر آفس نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور وفاقی حکام کے تعاون سے علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے ریاستی اور وفاقی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ گواناخواتو گزشتہ برس میکسیکو میں سب سے زیادہ قتل کی وارداتوں والی ریاست رہی۔ حالیہ برسوں میں یہ علاقہ منظم جرائم کا مرکز بن چکا ہے، جہاں جالیسکو نیو جنریشن کارٹیل اور سانتا روزا دے لیما کارٹیل کے درمیان علاقے اور غیر قانونی منڈیوں پر قبضے کی خونریز جنگ جاری ہے۔

اس تنازع کے نتیجے میں ریاست میں متعدد اجتماعی فائرنگ کے واقعات، سینکڑوں قتل، جبری گمشدگیاں اور خفیہ اجتماعی قبروں کی دریافت سامنے آ چکی ہے۔

اگرچہ میکسیکو کی وفاقی حکومت کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں قتل کی شرح کم ہو کر فی ایک لاکھ آبادی 17.5 رہ گئی ہے، جو 2016 کے بعد کم ترین سطح ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قومی اعداد و شمار گواناخواتو جیسے علاقوں میں جاری شدید مقامی تشدد کی اصل شدت کو پوری طرح ظاہر نہیں کرتے۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں