Metro53 - لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ سرکاری دورہ جاپان کی مالی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جس پر شفافیت اور اخراجات کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔سرکاری دستاویزات کے مطابق مریم نواز کابینہ اراکین کے ہمراہ جاپان روانہ ہوئیں، جہاں ان کے قیام و طعام، آمد و رفت اور تحائف پر بھاری اخراجات کیے گئے
وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورے کاابتدائی تخمینہ دس کروڑ روپے لگایا گیا جسے منظور شدہ ایڈوانس رقم سولہ کروڑ روپے تک بڑھا دیا گیا۔رقم پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ذریعے منتقل کی گئی۔دورے میں بینکاک میں شانگریلا ہوٹل میں ایک روزہ قیام بھی شامل۔جاپان میں لگژری ہوٹلز میں قیام کے اخراجات بھی شامل ۔
ٹرانسپورٹ کے لیے مرسڈیز وینز اور سیڈان گاڑیاں۔قیمتی تحائف میں ہاتھ سے بنے قالین، کشمیری شالیں، ڈیکوریٹو ویز بھی شامل۔ایوانِ وزیراعلیٰ کے مطابق دورہ پانچ روزہ ہے، مگر دستاویزات میں 12 دنوں کے اخراجات دکھائے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مالی بندوبست احتیاطاً زیادہ دنوں کے لیے کیا گیا ہے، اصل اخراجات کا تعین دورے کی واپسی پر ہوگا۔یہ دورہ سرمایہ کاری کے فروغ اور تعلقات کی بہتری کے لیے قرار دیا جا رہا ہے، لیکن عوامی حلقے اخراجات کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔