Metro53 - اسلام آباد (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحماننے کہا ہے کہ ملک کا سیاسی و پارلیمانی نظام مسلسل سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے، اور بدقسمتی سے موجودہ حکومت عوام کی نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسی مجالس کا انعقاد خوش آئند ہے لیکن ریاست کی اولین ترجیح عوام کے انسانی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔انہوں نے خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں عوام کی عدم تحفظ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہقبائلی علاقے آج بھی مسلح گروہوں کے کنٹرول میں ہیں، کاروباری طبقے کو بھتے دینے پڑتے ہیں اور سرکاری فنڈز کا 10 فیصد انہی گروہوں کو چلا جاتا ہے۔
مولانا نے فاٹا انضمام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاآٹھ نو سال بعد حکومت دوبارہ جرگہ سسٹم کی طرف جا رہی ہے، جبکہ انضمام کے وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ امن و امان کی ذمہ داری ریاست کی ہو گی۔انہوں نے کہا کہکہاں گئے وہ 100 ارب روپے جو فاٹا کو ملنے تھے؟ اور کہاں گئے وہ خواب جو عوام کو دکھائے گئے؟۔مائن اور منرل ایکٹ سمیت نئی قانون سازی کو انہوں نے اٹھارویں ترمیم اور آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے اختیارات چھینے جا رہے ہیں، اختلاف رائے کو بغاوت نہ سمجھا جائے۔