Metro53 - پشاور (ویب ڈیسک)خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع بونیر اور سوات میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق بونیر میں 75 جبکہ سوات میں 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اسکول کے 8 بچے بھی شامل ہیں۔
نیوزالرٹ کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم کے مطابق ضلع بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے، اور متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹرز اور پاک فوج کی مدد سے رسائی کی جا رہی ہے۔پیربابا بازار، گوکند گاؤں اور دیگر دیہی علاقے مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں۔ایک مسجد منہدم، درجنوں مکانات تباہ، مویشیوں کی ہلاکت سے دیہاتی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔
سوات میں بھی حالات نازک،مینگورہ شہر پانی میں ڈوب گیا ہے۔علاقے ملا بابا، حاجی بابا، خوازہ خیلہ اور مرغزار کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔لوگ گھروں کی چھتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں اور خوراک و دوا کے محتاج ہیں۔اب تک 3 افراد لاپتہ اور سینکڑوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق 30 مکانات مکمل تباہ ہیں۔
حکومت کی ہنگامی کارروائیاں جاری،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔پاک فوج، ایف سی اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں موجود۔ریلیف کیمپس قائم، خیمے، خوراک، کمبل فراہم کیے جا رہے ہیں ،زخمیوں کو اسپتالوں تک پہنچانے میں شدید مشکلات کاسامنا ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک جاری رہ سکتا ہے۔دریاؤں اور ندی نالوں میں مزید طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ندی نالوں کے قریب نہ جائیں، محفوظ مقامات پر منتقل ہوں اور مقامی حکام سے تعاون کریں۔