Metro53 - پشاور( ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے وزیراعظم شہباز شریف ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر اور خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ سہیل آفریدی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کہنا چاہونگا کہ ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف ہیں، اسرائیل اور امریکہ کبھی نہیں چاہیئں گے کہ پاکستان ترقی کرے، کونسا یہودی یہ چاہے گا کہ اسلامی ایٹمی قوت ترقی کرے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو غیر ضروری صرف عوام کر سکتی ہے اور ہم ہم اپنے زور بازو پر ملک میں حقیقی آزادی لے کر آئیں گے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام کے ساتھ وفاق سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہا ہے، ہم نے ایف سی کا مقدمہ رکھنا تھا مگر میٹنگ نہیں کی گئی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مشیر خزانہ مزمل اسلم اور پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت، بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی اور ان کی بہنوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مسلسل ظلم ہورہا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ آج وفاقی حکومت نے این ایف سی کے حوالے سے میٹنگ بلائی مگر اسکو بغیر وجہ بتائے منسوخ کردیا گیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں فیصلے ہو رہے ہیں اور ان کا علم کسی کو نہیں ہے، جو فیصلہ ہو رہا ہے اس کا اثر ایک خاندان یا ادارے پر نہیں بلکہ پورے پاکستان پر پڑے گا، پوری پاکستانی قوم نے ووٹ بانی پی ٹی آئی کو دیا ہے اور عوام چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی ملک کے فیصلے کریں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی یا ان کی پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ کوئی خبر ہے، توانائی بحران کے نام پر جو اقدامات آپ آج کیے جارہے ہیں وہ ہم کورونا کے دور میں کرچکے ہیں۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی سے بھی مشاورت کرلی جاتی تو بہتر تھا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت سات ماہ پانچ ارب ڈالر قرضہ لے کر جہاز خرید لیتی ہے اور پھر غیرملکی پائلٹ رکھے جاتے ہیں جن کو کروڑوں کی تنخواہ دی جاتی ہے، ان کی شاہ خرچیاں ختم نہیں ہو رہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں میں فیصلہ کرنے والوں کو سوچنا چاہیے، ہمارا تجارتی خسارہ بیس ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، نوجوان ملک سے بھاگنے کا طریقہ ڈھونڈ رہا ہے، زرعی گروتھ بھی منفی میں جا رہا ہے، مزید پاکستانیوں کو تباہ کرنا ہے بارہ بارہ ارب کے جہاز خریدنے ہیں بوجھ پاکستانی قوم پر ڈالنا ہے۔