Metro53 - گجرات ( ویب ڈیسک )یونیورسٹی آف گجرات کی متنازعہ بھرتی پالیسی کے خلاف اسسٹنٹ پروفیسرز کا بڑا قانونی وار، لاہور ہائیکورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے گورنر کو فوری مداخلت اور 30 دن میں مسئلہ حل کرنے کا حکم دے دیا، 80 فیصد اساتذہ متاثر ہونے کا انکشاف
تفصیلات کے مطابق،یونیورسٹی آف گجرات کے اساتذہ اسسٹنٹ پروفیسرز کی نئی بھرتی کے غیرقانونی کرائیٹیریا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے۔عدالتِ عالیہ نے گورنر کو معاملات حل کرکے 30 دن کے اندر جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا
تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے لیکچررز،اسسٹنٹ پروفیسرز،ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور پروفیسرز کی بھرتی کے لیے پالیسی میں تبدیلی کی جو کہ یونی ورسٹی آف گجرات کے ایکٹ 2004کی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ ایچ ای سی اور ایچ ای ڈی کی بھرتی پالیسی 2021 کے خلاف ہے،سنڈیکیٹ کے اس عمل سے یونی ورسٹی آف گجرات کے80 فیصد اساتذہ متاثر ہوئے ہیں
کسی بھی پی ایچ ڈی ڈاکٹر کو ریسرچ مارکس کی بنیاد پر "نااہل" (Ineligible) قرار دینا ایک کالعدم اقدام ہے کیونکہ:
یہ یو او جی سٹیٹیوٹس 2011 کی خلاف ورزی ہے
یہ یو او جی ایکٹ 2004 کی دفعہ 27 کی خلاف ورزی ہے
یہ ایچ ای سی (HEC) کے کم از کم معیار کے خلاف ہے
یہ ایچ ای ڈی (HED) پالیسی 2021 کے منافی ہے
یہ پالیسی آئین کے آرٹیکل 18 (پیشہ ورانہ آزادی) اور آرٹیکل 25 (برابری) پر ضرب لگاتی ہے اور اسے عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔جس کے بعد یو او جی کے اساتذہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔عدالت نے 30 دن کے اندر اساتذہ کے معاملات حل کرنے کا حکم جاری کردیا