گجرات :چودھری صاحبان جنرل پرویز مشرف کے دور کے سب سے بڑے سیاسی بینیفشری کیسے بنے

گجرات :چودھری صاحبان جنرل پرویز مشرف کے دور کے سب سے بڑے سیاسی بینیفشری کیسے بنے
Metro53

Metro53 - گجرات (ویب ڈیسک)جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں اگر کسی سیاسی خاندان نے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کیا تو وہ گجرات کے چودھری صاحبان تھے۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی مشرف دور میں اقتدار کے اہم ستون بن کر ابھرے اور پاکستان کی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

کے مارشل لا کے بعد جب جنرل پرویز مشرف نے سیاسی نظام کو نئی ترتیب دی تو پرانی جماعتوں سے توڑ کر پاکستان مسلم لیگ (ق) تشکیل دی گئی۔ اس نئی جماعت کی قیادت چودھری شجاعت حسین کو دی گئی، جب کہ پنجاب جیسے اہم صوبے میں اقتدار چودھری پرویز الٰہی کے حصے میں آیا۔ یوں مرکز اور صوبے میں طاقت کا توازن مکمل طور پر چودھری برادران کے حق میں چلا گیا۔

 سینئر صحافی اورمعروف کالم نگار جاوید چودھری  کے ایک کالم  سے لی گئی انفارمیشن  کے مطابق اس طاقت کے پیچھے ایک مضبوط پس منظر بھی تھا۔ جنرل مشرف کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز، جو ایف سی کالج میں چودھری برادران کے ہم جماعت رہ چکے تھے، نے مشرف اور چودھری خاندان کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ ماضی کی قربت اور باہمی اعتماد نے چودھری صاحبان کو اقتدار کے ایوانوں تک براہِ راست رسائی دلوائی۔

مشرف دور میں چودھری شجاعت حسین کا اسلام آباد میں واقع گھر غیر رسمی سیاسی مرکز بن چکا تھا، جہاں ملک بھر سے سیاستدان، بیوروکریٹس اور بااثر شخصیات حاضری دیتی تھیں۔ دوسری جانب پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کو ایک طاقتور وزیراعلیٰ کے طور پر پیش کیا گیا، جنہوں نے کھل کر جنرل مشرف کی پالیسیوں اور صدارت کی حمایت کی۔ 2007 میں پنجاب اسمبلی کے فلور پر جنرل مشرف کو وردی میں10 بار صدر منتخب کرانے کے اعلان نے اس وفاداری کو مزید واضح کر دیا۔

تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ عروج مکمل طور پر اقتدار کے سائے سے جڑا ہوا تھا۔ جیسے ہی جنرل مشرف کا دور ختم ہوا، ویسے ہی مسلم لیگ (ق) اور چودھری صاحبان کی سیاسی حیثیت بھی کمزور پڑتی چلی گئی۔ وہ دور جب جنرل مشرف کے نام پر محفلیں سجتی تھیں، تاریخ کا حصہ بن گیا۔

یہ کہانی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں طاقت اور وفاداری اکثر وقتی ہوتی ہے۔ مشرف دور میں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سب سے بڑے بینیفشری ضرور تھے، مگر وقت کے ساتھ اقتدار کے یہ سائے بھی ڈھل گئے۔

شیئر کریں

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں