Metro53 - لاہور (ویب ڈیسک) یونیورسٹی آف لاہور میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں طالب علم اویس سلطان کی اچانک موت ہوئی۔ سینئر اینکر پرسن فرخ وڑائچ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں یونیورسٹی کے چئیرمین اویس رؤف نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ اویس سلطان کے اچانک انتقال کے اسباب معلوم کرنے کے لیے طلبہ کی شمولیت کے ساتھ ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو جلد حقائق سامنے لائے گی۔
چئیرمین نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے سے ایک روز قبل ایک ٹیچر نے طالب علم اویس سلطان کے ساتھ کلاس میں دیر سے آنے اور وائٹ کوٹ نہ پہننے پر تلخ رویہ اختیار کیا۔ تاہم، ریکارڈ میں اویس سلطان کی حاضری مکمل تھی، فیس کی ادائیگی میں کوئی مسئلہ نہیں تھا اور وہ ایک لائق طالب علم تھا جس کا جی پی اے تین پوائنٹس سے اوپر تھا۔
مزید براں، اس واقعے کے دوران روم میٹ اور دوستوں سے ابتدائی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اویس سلطان خود میں مگن رہنے والے نوعیت کے طالب علم تھے جن کے حلقہ احباب محدود تھے۔ چئیرمین نے یقین دلایا کہ کمیٹی مکمل طور پر حقائق سامنے لانے کے بعد رپورٹ جاری کرے گی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ طالب علم نے ایسا اقدام کیوں کیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ اور متعلقہ حکام اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں اور کسی بھی حتمی نتیجے کا اعلان ابھی نہیں کیا جا سکتا۔ عوام اور طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتشار یا افواہوں پر یقین نہ کریں اور تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کریں۔