اسلام آباد پولیس نے سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک پر پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز بنانے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پابندی عائد کر دی ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی افسر یا اہلکار وردی میں ویڈیو بنائے گا تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
اسلام آباد پولیس نے سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک پر پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز بنانے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پابندی عائد کر دی ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی افسر یا اہلکار وردی میں ویڈیو بنائے گا تو اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
پالیسی پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس نے آپریشنز ڈویژن میں تعینات دو اہلکاروں — کانسٹیبل آفتاب احمد اور احتشام اسلم — کو معطل کر دیا ہے۔ دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے نہ صرف سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کی بلکہ دورانِ ڈیوٹی غیر پیشہ ورانہ رویے اور بدتمیزی کا مظاہرہ بھی کیا۔
ڈی آئی جی اسلام آباد نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی مزید انکوائری کا حکم دے دیا ہے، جبکہ دونوں اہلکاروں کو ریسکیو 15 میں رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کا رجحان گزشتہ چند برسوں میں بڑھتا جا رہا ہے، اور مختلف شہروں سے وردی میں بنائی گئی ویڈیوز وائرل ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اگرچہ حکام کی جانب سے وقتاً فوقتاً تنبیہ کی جاتی رہی ہے، مگر ان ہدایات کی مسلسل خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔
اسلام آباد پولیس کی طرح پنجاب اور سندھ پولیس نے بھی سوشل میڈیا پالیسی کے تحت اہلکاروں پر ٹک ٹاک سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر وردی میں سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، اور زیرو ٹالرنس کی پالیسی کے تحت سخت ایکشن لیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا پر پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں، لیکن محکمانہ ڈسپلن اور سروس رولز کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔